کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیراہتمام کراچی پریس کلب کے بورڈ روم میں سینئر صحافی، شاعر اور ادیب محمود شام کے ساتھ خصوصی نشست بعنوان ”جو ہم پہ گزری“ منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے رپورٹر سے ایڈیٹر تک اپنے طویل صحافتی سفر، پاکستانی سیاست کے اہم تاریخی واقعات، اہلِ سیاست سے ملاقاتوں، سنسرشپ، اخبارات پر پابندیوں اور آزادی صحافت کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے چشم دید واقعات بیان کیے۔اس موقع پر صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی، سیکرٹری محمد اسلم خان، ادبی کمیٹی کے سیکرٹری جاوید صبا، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نصراللہ چوہدری،سابق جوائنٹ سیکرٹری کراچی پریس کلب عابد حسین،سابق خازن نصیراحمد، کے یوجے کے خازن محمدناصر،سینئرصحافی ندیم صدیقی سمیت صحافیوں وادیبوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔محمود شام نے اپنے صحافتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق جھنگ سے ہے، جہاں سے ان کے ادبی ذوق اور لکھنے پڑھنے کے شوق نے پروان چڑھنا شروع کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے شاعری اور تحریر سے وابستگی رہی، جس نے آگے چل کر انہیں صحافت کے میدان میں قدم رکھنے کی راہ دکھائی۔ انہوں نے اپنے ابتدائی ادبی تجربات، معروف ادیبوں اور شاعروں سے ملاقاتوں اور اخبارات و جرائد میں اپنی تحریروں کی اشاعت کے واقعات بھی بیان کیے۔انہوں نے کہا کہ صحافت محض خبریں جمع کرنے اور شائع کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے مطالعہ، مشاہدہ، تحقیق، تاریخی شعور اور پیشہ ورانہ دیانت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک صحافی کو کسی بھی تقریب میں شرکت کے دوران اہم نکات نوٹ کرنے اور واقعات کو ان کے اصل تناظر میں محفوظ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے، کیونکہ یہی تفصیلات بعد میں مستند صحافتی تحریر کی بنیاد بنتی ہیں۔محمود شام نے پاکستانی سیاست کے اہم ادوار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مختلف سیاسی رہنماوں کے انٹرویوز اور تاریخی واقعات کی کوریج کا موقع ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو سمیت متعدد اہم سیاسی شخصیات سے متعلق صحافتی تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے شملہ معاہدے اور پاک بھارت تعلقات کے اہم مراحل کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے عہد کے واقعات کا محض راوی نہیں ہوتا بلکہ اس کی تحریریں مستقبل کے محققین اور تاریخ دانوں کے لیے بھی اہم دستاویز بن سکتی ہیں۔انہوں نے ماضی میں اخبارات کو درپیش حکومتی دباو، سنسرشپ، پریس قوانین کے تحت جاری ہونے والے نوٹسز اور اشاعت کے اعلانات منسوخ کیے جانے کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں صحافیوں اور اخبارات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم صحافت کی اصل طاقت حقائق کی درست ترجمانی اور عوام تک معلومات پہنچانے میں ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی روشنی میں بتایا کہ ادارتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ خبر اور تحریر کو شائع کرنے سے قبل اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔محمود شام نے روزنامہ نوائے وقت، مجید نظامی اور دیگر سینئر صحافتی شخصیات سے وابستہ یادوں اور واقعات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے صحافت میں ادارتی خودمختاری، خبر کی صحت اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے بقول، صحافتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کے دباوکے باوجود اپنے بنیادی اصولوں اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھیں۔انہوں نے اپنے ادبی سفر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادب سے وابستگی نے ان کی صحافت کو بھی ایک منفرد رنگ دیا۔ شاعری، زبان و بیان اور مشاہدے کی گہرائی نے ان کی تحریروں کو متاثر کیا، جبکہ صحافت نے انہیں زندگی، معاشرے اور سیاست کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ نشست کے دوران صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے خیرمقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ محمود شام نہ صرف اپنی صحافتی زندگی میں پیش آنے والے واقعات بلکہ پاکستان کے قیام کے بعد 79 برس کے دوران ملک پر گزرنے والے اہم حالات و واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہیں۔فاضل جمیلی نے کہا کہ محمود شام نے صحافت کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے ایڈیٹر شپ تک رسائی حاصل کی اور طویل عرصے تک روزنامہ جنگ گروپ کے گروپ ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پاکستانی صحافت کو قریب سے دیکھا اور اس کے مختلف ادوار میں اپنا کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان کی سیاست کو بھی انہوں نے انتہائی قریب سے مشاہدہ کیا۔ ان کے صحافتی تجربات اور یادداشتیں ملکی تاریخ کے اہم ادوار کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔صدر کراچی پریس کلب نے کہا کہ محمود شام کا ادب سے گہرا تعلق ہے اور یہی ادبی وابستگی ان کی صحافت میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں زبان و بیان کی خوب صورتی، ادب کی چاشنی اور مشاہدے کی گہرائی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ محمود شام کا احترام کیا اور صحافت و ادب کے میدان میں ان جیسا بننے کی کوشش کی، تاہم اس کوشش میں کتنی کامیابی حاصل ہوئی، یہ ایک الگ کہانی ہے۔فاضل جمیلی نے محمود شام کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک دوروں کے دوران کسی سربراہِ حکومت کے ہمراہ جانے کی صورت میں وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو ڈائری کی شکل میں مرتب کرکے بھیجتے رہے ہیں، جو ایک منفرد صحافتی مہارت ہے۔ اسی طرح وہ کسی تقریب میں شریک ہوں تو دورانِ تقریب اہم نکات نوٹ کرتے رہتے ہیں اور بعدازاں انہی نوٹس کی مدد سے ایک مکمل اور مربوط تحریر تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ محمود شام کی اس عادت سے بہت متاثر ہوئے اور خود بھی اسے اپنانے کی کوشش کی، تاہم اس معیار تک پہنچنا آسان نہیں۔فاضل جمیلی نے کہا کہ محمود شام نے ذوالفقار علی بھٹو سمیت اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ کام کیا اور شملہ معاہدے جیسے تاریخی واقعے کی کوریج بھی کی۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے متعدد اہم واقعات کے نہ صرف چشم دید گواہ ہیں بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے انہیں محفوظ کرنے والوں میں بھی شامل ہیں۔نشست کے دوران شرکاءنے محمود شام سے ان کے ابتدائی حالات، صحافت میں آمد، تاریخی شخصیات سے ملاقاتوں اور مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوالات بھی کیے۔ انہوں نے اپنے تجربات اور یادداشتوں کی روشنی میں سوالات کے جوابات دیے اور نوجوان صحافیوں کے لیے مطالعے، مشاہدے، تحقیق اور پیشہ ورانہ دیانت کو کامیاب صحافت کی بنیاد قرار دیا۔
11
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل