ڈیجیٹل شعبے میں ٹیمیں بنانا کافی نہیں۔۔ 34

ڈیجیٹل شعبے میں ٹیمیں بنانا کافی نہیں۔۔

تحریر: مجاہد حسین خٹک۔۔
جب سینیئر صحافی کامران خان کی قیادت میں پہلے ڈیجیٹل پلیٹ فارم "نکتہ" کا آغاز ہوا تو مجھے بھی اس میں دلچسپی پیدا ہوئی کیونکہ میرا تعلق اسی شعبے سے ہے۔
اتنے بڑے پیمانے پر ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز بہت انوکھا تجربہ تھا جس کی کامیابی میڈیا انڈسٹری کیلئے بہت سی نئی راہیں کھول سکتی تھی۔
کچھ عرصہ اس چینل کا تجزیہ کرتا رہا اور پھر مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ پلیٹ فارم کامیاب نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کا بزنس ماڈل غلط بنیادوں اور کمزور مفروضوں پر استوار ہے۔
اسی دوران میرے ایک صحافی دوست نے بتایا کہ اسے نکتہ سے بہت اچھی تنخواہ کی آفر ہوئی ہے اور اس نے یہ پلیٹ فارم جوائن کر لیا ہے۔
میں نے کہا کہ فی الحال تو اچھی تنخواہ اور بہتر ماحول کو انجوائے کریں لیکن یہ پلیٹ فارم ناکام ہو جائے گا پھر وہ بیدردی سے لوگوں کو نکالنا شروع کر دیں گے۔ اس لیے جب بھی کوئی اچھی آفر آئے تو سوئچ کر جائیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ میرا اندیشہ درست ثابت ہوا۔ نکتہ لڑکھڑانے لگا، بیرون ملک دفاتر بند ہونے لگے، ملک کے اندر صحافیوں کی چھانٹی شروع ہو گئی اور مجھے اسی دوست نے بتایا کہ نکتہ میں اب کسی کی جاب محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے ایک اچھی آفر ملنے پر اس نے بھی ایک اور ادارہ جوائن کر لیا ہے۔
نکتہ نے اصل میں وہی غلطی کی جو بہت سے ٹی وی چینل ڈیجیٹل شعبے میں کر رہے ہیں۔ انہوں نے چند بڑے الیکٹرانک چینلز کے ڈیجیٹل شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو بھاری تنخواہوں پر ہائر کر کے سمجھ لیا کہ اب وہ کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے ملک کا بہترین ٹیلنٹ خرید کر لیا ہے۔
انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ ڈیجیٹل شعبے کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھنے والے افراد بکھرے ہوئے دانوں کی طرح ہیں۔ کامیابی کیلئے انہیں ایک لڑی میں پرونا ضروری ہے۔ اس لیے ان سے کام لینے کیلئے ایک یا ایک سے زیادہ افراد چاہئیں جو ڈیجیٹل شعبے کے ہر پہلو کے بھی ماہر ہوں، وہ بڑی تصویر دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور کاروباری پہلوؤں سے بھی آگاہ ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر ٹی وی چینلز کا ڈیجیٹل شعبہ اپنے حقیقی پوٹینشل سے بہت کم پر منجمد ہے۔ جتنی زیادہ انکم کی وہ صلاحیت رکھتا ہے، اس کا چوتھائی بھی نہیں کما کر دے رہا۔
یہیں سے آپ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ موجودہ نظام اپنا بیانیہ بنانے میں کیوں ناکام ہو رہا ہے۔ اس نے حکومتی خزانے سے بھاری رقوم خرچ کر کے ٹی وی چینلز کو بھی اپنے حق میں کر لیا ہے اور ڈیجیٹل شعبے کیلئے بھی بڑی بڑی ٹیمیں اور ڈیجیٹل چینلز بھی بنا دیے ہیں۔ لیکن بیانیے کی جنگ میں یہ سب ناکام ہو گئے ہیں۔ کیونکہ صرف چینلز پر اپنا بیانیہ پھیلانا اور ڈیجیٹل شعبے میں ٹیمیں بنا دینا کافی نہیں ہے۔ ان سے کام کیسے لینا ہے، اس کے لیے بھی ماہرین کی ضرورت ہے۔۔(مجاہد حسین خٹک)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں