کراچی پریس کلب میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی کی صدارت میں ہوا، جس میں پیکا ایکٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کو جاری کیے جانے والے نوٹسز، آزادیٔ اظہار پر قدغن، ہتکِ عزت کے قانون اور صحافیوں کو درپیش قانونی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صحافیوں کو جاری نوٹسز فوری واپس لینے، قانونی و پارلیمانی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کے ساتھ عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ صحافیوں کو مسلسل نوٹسز جاری کیے جارہے ہیں، این سی سی آئی اے خود ہی عدالت بنی ہوئی ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بعد اب سوشل میڈیا پر بھی قدغنیں عائد کی جارہی ہیں اور صحافیوں کو دھمکایا جارہا ہے۔سینیئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ دنیا میں ہتکِ عزت کا قانون سب سے مؤثر قانون سمجھا جاتا ہے، اگر اس کے فیصلوں میں تاخیر ہورہی ہے تو قانون کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔ قانون میں ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں بھی تجویز دی گئی تھی کہ میڈیا کمپلینٹ سیل قائم کیا جائے، جس میں صحافیوں کی نمائندگی بھی ہو، جبکہ کمپلینٹ سیل کی سفارشات اور فیصلے اخبارات میں شائع کیے جائیں۔مظہر عباس نے کہا کہ پیکا اور این سی سی آئی اے کو آزادیٔ اظہار رائے سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، قانون کو ہتھیار بنا کر صحافیوں کو روکنے کے بجائے ہتکِ عزت کے قانون کو بہتر بنایا جائے اور ہراساں کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنا طریقۂ کار وضع کررہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فیک نیوز صرف کسی کے خلاف بات کرنے سے نہیں بنتی، سرکاری ادارے اور حکومتیں بھی بعض اوقات ایسی اطلاعات جاری کرتی ہیں جو حقائق کے منافی ہوتی ہیں۔ کوئی منصوبہ وجود میں ہی نہ آیا ہو اور اس کی تشہیر کردی جائے تو یہ بھی فیک نیوز کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے فیک نیوز کی جامع تعریف ضروری ہے۔مظہر عباس نے مزید کہا کہ تمام میڈیا اداروں میں محتسب کا ادارہ ہونا چاہیے، جبکہ صحافیوں کی بھی تربیت ضروری ہے کہ خبر دیتے وقت کسی کی بلاوجہ توہین نہ ہو۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری ریحان چشتی نے کہا کہ این سی سی آئی اے کسی صحافی کے خلاف نوٹس جاری کرنے سے قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آگاہ کرے تاکہ معاملے کا بروقت جائزہ لیا جاسکے۔فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی خازن شہربانو نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ساتھ یونینز کو بھی صحافیوں کو جاری ہونے والے نوٹسز سے متعلق بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ یونینز سے وابستہ صحافیوں کو ملنے والے نوٹسز کا فوری علم ہوسکے اور انہیں قانونی معاونت فراہم کی جاسکے۔کے یو جے کی جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نے کہا کہ آئین کے خلاف قوانین نہیں بنائے جانے چاہئیں۔ ہتکِ عزت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے، جبکہ ورک پلیس کی بھی واضح تعریف ہونی چاہیے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے بعد اب صحافی سوشل میڈیا پر بھی کام کررہے ہیں، اس لیے نئے حالات کے مطابق قوانین اور ضوابط وضع کیے جائیں۔ نائب صدر پی ایف یو جے غزالہ فصیح نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور پالیسی میں تبدیلی کیلئے لابنگ شروع کرنی چاہیے۔ قانون سازی اور پالیسی تبدیلی کیلئے متعلقہ حلقوں سے رابطے ضروری ہیں، جبکہ صحافیوں میں بھی قوانین سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کے یو جے کے سیکریٹری لیاقت کشمیری نے کہا کہ این سی سی آئی اے اور پیکا ایکٹ کے ذریعے صحافیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اپنایا جارہا ہے، اس سے نمٹنے کیلئے قانونی ٹیم تشکیل دی جائے۔ صحافیوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور جاری کیے جانے والے نوٹسز کے بارے میں کراچی پریس کلب اور یونینز کو بروقت آگاہ کیا جانا چاہیے۔فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف آئینی درخواست دائر کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ قانون آئین پاکستان کی دفعہ 19 سے متصادم ہے۔ صحافیوں کے خلاف بعض معاملات میں نوٹس دیے بغیر بھی مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب مریم اورنگزیب وزیر اطلاعات تھیں تو کراچی پریس کلب میں انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پیکا ایکٹ پر اعتراضات موجود ہونے تک اسے اسمبلی سے منظور نہیں کرایا جائے گا، تاہم اگلے ہی روز یہ قانون اسمبلی سے منظور کرالیا گیا۔ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالتوں سے بھی رجوع کیا جانا چاہیے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کیلئے کام کرنا مشکل بنایا جارہا ہے۔ آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کیلئے صحافتی تنظیموں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک وفد تشکیل دیا جائے گا جو پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کرکے انہیں صحافیوں کو درپیش مشکلات، پیکا ایکٹ اور این سی سی آئی اے سے متعلق تحفظات سے آگاہ کرے گا۔ کمیٹی نے قانونی مشاورت، پارلیمانی رابطوں، لابنگ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد ہوگا، جبکہ صحافیوں کو جاری ہونے والے نوٹسز اور قانونی کارروائیوں کی بروقت اطلاع کیلئے مؤثر رابطہ کار نظام تشکیل دیا جائے گا۔اجلاس میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع، سینیئر صحافی مظہر عباس، فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ، خازن پی ایف یو جے شہربانو، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری لیاقت کشمیری، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان چشتی، کے یو جے کی جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار، نائب صدر پی ایف یو جے غزالہ فصیح اور پریس فوٹوگرافرز ایسوسی ایشن کے صدر جمیل احمد نے شرکت کی۔
44
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل