صحافتی اداروں کے اشتہارات کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں،ایمرا پاکستان 32

صحافتی اداروں کے اشتہارات کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں،ایمرا پاکستان

الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) پاکستان کے مرکزی صدر محمد آصف بٹ اور سیکرٹری جنرل انور رضا نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ نیوز چینلز اور اخبارات کے اشتہارات کی مد میں واجب الادا بقایاجات کی ادائیگیاں فوری طور پر ریلیز کی جائیں تاکہ مالی مشکلات سے دوچار صحافتی اداروں کو ریلیف مل سکے اور اس کے ثمرات براہِ راست صحافتی ورکرز تک پہنچ سکیں۔
ایمرا پاکستان کی مرکزی قیادت نے کہا ہے کہ ملک بھر میں صحافتی اداروں اور ان سے وابستہ کارکنوں کو اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث صحافتی ورکرز اپنے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات سے دوچار ہیں۔
محمد آصف بٹ اور انور رضا نے کہا کہ آج نیوز، اے ون نیوز، پبلک نیوز، نیو نیوز، 365 نیوز، سنو نیوز اور بول نیوز سمیت مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ صحافتی کارکنوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی اطلاعات باعثِ تشویش ہیں۔ میڈیا اداروں کو اشتہارات کی مد میں سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے اثرات بالآخر ان اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں، کیمرا پرسنز، ٹیکنیکل اسٹاف اور دیگر میڈیا ورکرز تک پہنچتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیتی ہیں، لیکن اس ستون سے وابستہ کارکنوں کی معاشی مشکلات پر بھی عملی توجہ دینا ضروری ہے۔ صحافتی ورکرز دن رات اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے عوام تک بروقت خبریں پہنچاتے ہیں اور جمہوری معاشرے میں عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایمرا پاکستان کے مرکزی صدر محمد آصف بٹ نے کہا کہ اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کسی ایک میڈیا گروپ کا نہیں بلکہ پورے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر اداروں کو بروقت ادائیگیاں نہیں ہوں گی تو اس کا براہِ راست اثر صحافتی کارکنوں کی تنخواہوں اور روزگار پر پڑے گا۔
سیکرٹری جنرل ایمرا پاکستان انور رضا نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو صرف میڈیا اداروں کے مالی معاملات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے صحافتی ورکرز کے معاشی تحفظ سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔ میڈیا اداروں کے واجبات کی بروقت ادائیگی سے نہ صرف اداروں کو اپنے مالی معاملات بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ صحافتی کارکنوں کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں صحافتی ورکرز پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کئی کئی ماہ تک تنخواہوں کی عدم ادائیگی یا تاخیر ان کے لیے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔
ایمرا پاکستان کی مرکزی قیادت نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے نیوز چینلز اور اخبارات کے اشتہارات کی مد میں زیر التوا واجبات کی ادائیگی کا عمل تیز کروائیں اور میڈیا اداروں کو بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔
محمد آصف بٹ اور انور رضا نے کہا کہ حکومت اور میڈیا انڈسٹری کے درمیان ایک مؤثر رابطہ کار نظام ہونا چاہیے تاکہ اشتہارات کے اجرا، بلوں کی منظوری اور ادائیگی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صحافتی اداروں کی مالی مشکلات کا حل براہِ راست صحافتی ورکرز کے معاشی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ اگر میڈیا ادارے مستحکم ہوں گے تو صحافی، کیمرا پرسنز، نیوز ڈیسک، پروڈکشن، ٹیکنیکل اسٹاف اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہزاروں کارکن بھی اپنے فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکیں گے۔
ایمرا پاکستان کی قیادت نے پورے پاکستان میں صحافتی اداروں اور صحافتی ورکرز کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اشتہارات کی مد میں تمام جائز اور منظور شدہ بقایاجات کی ادائیگی کا عمل فوری مکمل کیا جائے اور مستقبل میں بھی میڈیا اداروں کو ادائیگیوں کا ایک شفاف اور بروقت نظام فراہم کیا جائے۔
محمد آصف بٹ اور انور رضا نے کہا کہ صحافتی ورکرز کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ان کا بنیادی معاشی حق ہے۔ حکومت، میڈیا مالکان اور متعلقہ اداروں کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے صحافتی کارکنوں کے روزگار اور معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایمرا پاکستان کی اپیل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے میڈیا اداروں کے اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کے لیے عملی اقدامات کریں گی تاکہ صحافتی ورکرز کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور ملک کے چوتھے ستون سے وابستہ کارکن اپنا پیشہ ورانہ کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں