92 نیوز کے جعلی کارڈ اور لوگو بنانے والوں کے خلاف 15 افراد پر مقدمات درج 26

92 نیوز کے جعلی کارڈ اور لوگو بنانے والوں کے خلاف 15 افراد پر مقدمات درج

لاہور، قصور، ساہیوال، فیروزوالا سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں نائنٹی ٹو نیوزکے جعلی کارڈ اور لوگو بنانے والوں کے خلاف پندرہ افراد کے مقدمات درج کرلئے گئے۔۔پہلا مقدمہ فیروز والا میں درج کیا گیا، جس کے بعد ساہیوال، ہری پور اور کراچی میں بھی جعلسازوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔۔ ایف آئی اے نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔۔تفصیلات کے مطابق 92 نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے چینل کے نام اور لوگو کے مبینہ غیر قانونی استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رجوع کیا گیا۔ ابتدائی کارروائی کے دوران ایسے افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 92 نیوز سے وابستگی ظاہر کرنے کے لیے جعلی شناختی کارڈز، پریس کارڈز یا دیگر مواد تیار کیا یا استعمال کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی کارڈز اور لوگو کے ذریعے بعض افراد کی جانب سے خود کو 92 نیوز کا نمائندہ، رپورٹر یا صحافی ظاہر کرنے کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد معاملے کی چھان بین شروع کی گئی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر 15 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔نائنٹی ٹو نیوز انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی فرد کی جانب سے ادارے کے نام، لوگو، شناخت یا صحافتی کارڈ کا غیر مجاز استعمال نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے عوام، سرکاری اداروں اور دیگر حلقوں کو بھی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ 92 نیوز کے نام سے کسی بھی شخص کی وابستگی کی تصدیق صرف ادارے کے مجاز ذرائع سے کی جائے اور مشکوک کارڈ یا شناخت سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ذرائع کے مطابق جعلی کارڈز اور لوگو کے استعمال سے متعلق معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ متعلقہ ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جعلی کارڈز اور دیگر مواد کہاں اور کس طریقے سے تیار کیے گئے اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔قانونی کارروائی کے بعد جعلی صحافتی شناخت استعمال کرنے والے افراد کے خلاف مزید مقدمات یا اضافی دفعات بھی شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں