خصوصی رپورٹ۔۔۔۔
روایتی میڈیا کو نظرانداز کرکے یوٹیوبرز اور پوڈکاسٹرز کا رخ کیوں کر رہے ہیں سیاستدان اور کاروباری شخصیات؟سیاستدان، کاروباری شخصیات اور دیگر نمایاں عوامی چہرے اب روایتی نیوزاداروں کوانٹرویوزدینے کے بجائے تیزی سے یوٹیوبرز، پوڈکاسٹرز، نیوز لیٹر رائٹرز اور سوشل میڈیا کریئیٹرز کے پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر انتخابی مہمات، کارپوریٹ اعلانات، نئی مصنوعات کے اجرا اور اہم عوامی مباحث کے دوران زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔
اس تبدیلی نے شفافیت، احتساب اور عوامی مفاد کی صحافت کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ڈیجیٹل کریئیٹرز اگرچہ انتہائی متحرک اور مخصوص ناظرین تک رسائی رکھتے ہیں، تاہم روایتی نیوز رومز سے باہر ہونے والے انٹرویوز میں ہمیشہ وہی ادارتی نگرانی، حقائق کی جانچ اور سخت سوالات کا معیار موجود نہیں ہوتا جو پیشہ ور صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
کئی دہائیوں تک اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو عوامی رابطے کے بنیادی ذرائع اور معلومات کے اہم نگہبان رہے۔ سیاسی و کاروباری رہنما پالیسیوں کی وضاحت، اہم فیصلوں کے اعلان اور تنقید کا جواب دینے کے لیے عموماً روایتی صحافیوں اور میڈیا اداروں کا سہارا لیتے تھے۔
تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑھتی مقبولیت کے ساتھ یہ ماڈل تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ اب لاکھوں افراد خبریں، تجزیے اور انٹرویوز یوٹیوب، پوڈکاسٹس، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، لنکڈ اِن اور آزاد نیوز لیٹرز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ بعض ڈیجیٹل کریئیٹرز کے ناظرین کی تعداد بڑے روایتی میڈیا اداروں کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
سیاستدانوں اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے لیے یوٹیوب، پوڈکاسٹس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آنے کے کئی فوائد ہیں۔انہیں مخصوص اور ہدف شدہ سامعین تک براہ راست رسائی ملتی ہے، گفتگو کے لیے ٹی وی نشریات جیسی سخت وقت کی پابندی نہیں ہوتی اور انہیں اپنے پیغام پر نسبتاً زیادہ کنٹرول حاصل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دوستانہ نوعیت کے پوڈکاسٹ یا کریئیٹر انٹرویو میں جارحانہ جرح، سخت سوالات اور بار بار ہونے والی مداخلت کا امکان بھی کم ہو سکتا ہے۔ اس رجحان کو ابلاغی اصطلاح میں "ڈس اِنٹرمیڈی ایشن" کہا جاتا ہے، یعنی عوامی شخصیت اور سامعین کے درمیان روایتی ادارتی یا صحافتی واسطے کا ختم یا کم ہو جانا۔
ڈیجیٹل میڈیا پر کام کرنے والے تمام افراد کا کردار ایک جیسا نہیں۔کئی یوٹیوبرز اور پوڈکاسٹرز سنجیدہ صحافتی تحقیق کرتے ہیں، تفصیلی تیاری کے ساتھ انٹرویوز کرتے اور روایتی صحافیوں کی طرح سخت سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔دوسری جانب بہت سے کریئیٹرز بنیادی طور پر تفریح، لائف اسٹائل، کاروباری مشوروں، ذاتی رائے یا برانڈنگ سے متعلق مواد تیار کرتے ہیں۔ ایسے انٹرویوز میں عوامی احتساب کے بجائے کہانی، شخصیت سازی اور تشہیری پہلو زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔انفلوئنسرز عمومی طور پر ان ادارتی قواعد، تصحیح کی پالیسیوں اور نگرانی کے نظام کے پابند نہیں ہوتے جو روایتی نیوز اداروں میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا مواد لازماً غلط ہوتا ہے، تاہم مختلف کریئیٹرز کے صحافتی طریقۂ کار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔اس صورت حال نے ایک ایسا متنوع میڈیا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عام ناظر کے لیے صحافت، تجزیے، تشہیر اور ذاتی رائے میں فرق کرنا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی شخصیات کو اپنے پیغام پر نسبتاً زیادہ کنٹرول دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی دوستانہ پوڈکاسٹ میں شرکت کرنے والے سیاستدان کو روایتی ٹی وی انٹرویو کی نسبت کم مداخلت اور کم جارحانہ سوالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔طویل دورانیے کے پوڈکاسٹس میں مہمان ایک یا دو گھنٹے تک پیچیدہ موضوعات کی تفصیل بیان کر سکتا ہے، جبکہ ٹی وی انٹرویو میں عموماً مختصر سوالات اور محدود وقت دستیاب ہوتا ہے۔سوشل میڈیا الگورتھمز بھی براہ راست رابطے، مقبول شخصیات اور دلچسپ گفتگو کو زیادہ پذیرائی دیتے ہیں۔ اس ماحول میں سیاسی رہنما ادارتی فلٹرز کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست اپنے حامیوں یا سامعین سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
کارپوریٹ ایگزیکٹوز بھی صارفین، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی کمیونٹیز تک رسائی کے لیے کریئیٹرز کے ساتھ انٹرویوز اور شراکت داری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی بعض اوقات اپنی مصنوعات روایتی پریس بریفنگ کے ساتھ یا اس سے پہلے ڈیجیٹل کریئیٹرز کے ذریعے متعارف کراتی ہیں۔اس حکمت عملی کی ایک بڑی وجہ نوجوان سامعین تک رسائی بھی ہے، کیونکہ نئی نسل کا ایک بڑا حصہ روایتی ٹیلی ویژن اور اخبارات کے مقابلے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو زیادہ استعمال کرتا ہے۔
کیا احتساب کمزور ہو رہا ہے؟اس سوال کا جواب بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ انٹرویو کس انداز سے کیا جا رہا ہے۔روایتی صحافت میں معلومات کی تصدیق، آزادانہ سوالات، حقائق کی جانچ اور متضاد دعوؤں کو چیلنج کرنا بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔ تجربہ کار رپورٹرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضمنی سوالات کریں، ثبوت طلب کریں اور مہمان کے مفاد کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔کچھ ڈیجیٹل کریئیٹرز بھی یہی اصول اپناتے ہیں، تاہم بعض انٹرویوز میں تفریح، ویوز، ناظرین کی دلچسپی یا اہم مہمانوں تک مستقبل میں رسائی برقرار رکھنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مشکل سوالات سے گریز کیا جائے تو عوام کو حقیقی احتساب کے بجائے پہلے سے تیار کردہ اور منظم بیانیہ سننے کو ملتا ہے۔
اس کے برعکس ڈیجیٹل میڈیا کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ روایتی میڈیا کے تمام انٹرویوز بھی یکساں معیار کے نہیں ہوتے اور بعض آزاد کریئیٹرز مخصوص موضوعات پر روایتی صحافیوں کے مقابلے میں زیادہ معلوماتی اور تفصیلی سوالات کر سکتے ہیں۔لہٰذا اصل مسئلہ پلیٹ فارم نہیں بلکہ صحافتی طرزِ عمل اور معیار ہے۔
اعتماد کا تعلق پلیٹ فارم نہیں، شفافیت سے ہے۔میڈیا پر اعتماد کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ معلومات کتنی شفاف، آزاد اور ثبوت پر مبنی ہیں، نہ کہ صرف اس بات پر کہ وہ اخبار میں شائع ہوئیں یا یوٹیوب پر۔بہت سے ناظرین ڈیجیٹل کریئیٹرز کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ ان کا انداز زیادہ غیر رسمی، ذاتی اور حقیقی محسوس ہوتا ہے۔دوسری جانب روایتی نیوز ادارے عموماً غلطیوں کی تصحیح کے باقاعدہ طریقۂ کار، مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق پالیسیوں، اشتہارات اور ادارتی مواد میں واضح فرق اور کئی سطحوں پر ادارتی نگرانی کے نظام رکھتے ہیں۔آزاد کریئیٹرز بھی ایسے اصول اپنا سکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی عالمی اور یکساں معیار موجود نہیں۔اسی لیے ناظرین کے لیے ضروری ہوتا جا رہا ہے کہ وہ معلومات کی ساکھ کا فیصلہ صرف پلیٹ فارم کی بنیاد پر نہ کریں بلکہ ذریعے، ثبوت، شفافیت اور مواد تیار کرنے کے طریقۂ کار کو بھی دیکھیں۔
پیشہ ور صحافی اور ڈیجیٹل کریئیٹرز دونوں ہتکِ عزت، رازداری، توہینِ عدالت، کاپی رائٹ، انتخابی قوانین اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔کئی ممالک نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسپانسر شدہ مواد اور سیاسی اشتہارات کے لیے اضافی شفافیت کے ضوابط بھی متعارف کرائے ہیں۔تاہم قانونی ذمہ داریاں اس بات پر مختلف ہو سکتی ہیں کہ کوئی شخص صحافی، براڈکاسٹر، پبلشر، انفلوئنسر یا پلیٹ فارم آپریٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ کے باعث یہ قانونی تعریفیں بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے اثرات کے باعث روایتی نیوز ادارے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔اب متعدد بڑے میڈیا ادارے روایتی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ پوڈکاسٹس، یوٹیوب چینلز، نیوز لیٹرز، لائیو اسٹریمز اور سوشل میڈیا ویڈیوز بھی تیار کر رہے ہیں۔صحافیوں کے لیے اب صرف لکھنے کی مہارت کافی نہیں رہی۔ ویڈیو پروڈکشن، آڈیئنس انگیجمنٹ، ڈیٹا جرنلزم، ملٹی میڈیا اسٹوری ٹیلنگ اور ڈیجیٹل ویری فکیشن جیسی مہارتیں بھی تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہیں۔اس کے باوجود احتسابی اور تحقیقاتی صحافت کا متبادل آسان نہیں۔ تحقیقاتی رپورٹنگ، عدالتی رپورٹنگ، سرکاری دستاویزات کا تجزیہ اور فیکٹ چیکنگ ایسے شعبے ہیں جن کے لیے وقت، مالی وسائل، ادارتی نگرانی اور قانونی معاونت درکار ہوتی ہے، جو ہر انفرادی کریئیٹر کے لیے دستیاب نہیں ہوتی۔
صحافت ختم نہیں ہو رہی، میڈیا کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کریئیٹر پلیٹ فارمز صحافت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے معلومات عوام تک پہنچانے کے نئے راستے پیدا کر رہے ہیں۔صحافیوں اور روایتی میڈیا اداروں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا مقابلہ صرف دوسرے نیوز اداروں سے نہیں بلکہ یوٹیوبرز، پوڈکاسٹرز، انفلوئنسرز اور آزاد ڈیجیٹل پبلشرز سے بھی ہے۔عوامی شخصیات ایسے انٹرویو فارمیٹس کا انتخاب کر رہی ہیں جہاں انہیں زیادہ رسائی اور کم خطرہ نظر آتا ہے۔ ایسے میں نیوز رومز کے لیے ضروری ہے کہ وہ آزاد رپورٹنگ، تصدیق شدہ معلومات اور احتسابی صحافت کی اپنی منفرد اہمیت کو زیادہ واضح طور پر عوام کے سامنے پیش کریں۔مضبوط رپورٹنگ، خصوصی تحقیقات، شفاف ذرائع اور ناظرین کا اعتماد وہ خصوصیات ہیں جنہیں محض تشہیری یا دوستانہ انٹرویوز کے ذریعے آسانی سے متبادل فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ (خصوصی رپورٹ)۔۔۔
36