سیکرٹری حافظ آباد پریس کلب پر قاتلانہ حملہ 24

سیکرٹری حافظ آباد پریس کلب پر قاتلانہ حملہ

ورکنگ جرنلسٹس فورم کے سرپرست اعلیٰ ایڈوکیٹ واصف سایہ ، بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد،غلام مہدی سمیت عہدیداران وممبران نےڈسٹرکٹ پریس کلب حافظ آباد کےجنرل سیکرٹری شوکت علی وٹو اور لیاقت علی وٹو پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال (DHQ Hospital) کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے کیے گئے قاتلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی برادری کو خوفزدہ اور دباؤ میں لانے کی سنگین کوشش قرار دیا ہے۔ صحافیوں پر حملہ دراصل آزادیٔ صحافت، حقِ اظہار اور سچ کی آواز پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ صحافیوں کو دھمکانا، ان پر حملہ کرنا یا انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات ، وزیر داخلہ پنجاب ، حافظ آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صحافتی برادری کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا تشدد کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔ اگر صحافیوں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف صحافتی تنظیمیں ہر قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کریں گی۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم شوکت علی وٹو اور لیاقت علی وٹو کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے صحافی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور صحافیوں کے تحفظ و آزادیٔ صحافت کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں