320

متنازع پالیسی، کیمرہ مین دوران ڈیوٹی بس میں گرکربے ہوش۔۔۔

لاہور کیمرہ مین جرنلٹس ایسوسی ایشن نے 92 نیوز کی انتظامیہ کی فرعونیت اور کیمرہ مین نوید کی حالت خراب ہونے پر شدید مذمت کی۔ اپنے مذمتی بیان میں لاہور کیمرہ مین جرنلٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 92 نیوز کی انتظامیہ اپنے کیمرہ مینوں کو زبردستی بسوں رکشوں موٹرسائیکل پر نیوز کوریج کے لیے دھکیل رہی ہے۔ اس پر ظلم یہ کہ تمام سفری اور دیگر اخراجات بھی کیمرہ مین کی اپنی جیب سے ادا کروائے جا رہے ہیں۔اس سفاکانہ رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ایسوسی ایشن کے ممبر اور محنتی کیمرہ مین نوید کی طبیعت ڈیوٹی کے دوران انتہائی خراب ہو گئی اور وہ بس کے اندر بے ہوش ہو کر گر پڑے۔یہ محض لاپرواہی نہیں، یہ قتلِ عمد ہے۔ یہ جدید دور کی غلامی ہے۔نائنٹی ٹو انتظامیہ نے صحافت کو کاروبار اور کیمرہ مینوں کو مشین سمجھ لیا ہے۔ انسان کی جان، صحت اور عزت کی کوئی قدر نہیں۔ انتظامیہ کے یہ فرعون اپنے ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر غریب کیمرہ مینوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔لاہور کیمرہ مین جرنلٹس ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ چینل انتظامیہ فوری طور پر ظالمانہ پالیسی منسوخ کرے، کیمرہ مین نوید کے علاج معالجے کا تمام خرچہ فوری ادا کرے، اس واقعہ کے ذمہ دار افسران ککے خلاف فوری قانونی قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اب کسی کیمرہ مین کی جان سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے لاہور پریس کلب اور تمام صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری اپنا کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں