سینئر صحافی اور کالم نگار توفیق بٹ کیخلاف بیوروکریٹس ایسوسی ایشن/تنظیم کے صدر کی جانب سے معروف کالم نگار توفیق بٹ کیخلاف کی جانے والی کاروائی کیلئے سابق صدر لاہور بار رانا انتظارنے اپنی پروفیشنل ٹیم کے ہمراہ مکمل قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے قانونی نوٹس بھیج دیا جس میں ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں دائر شکایت فوری طور پر واپس لینے اور صحافتی سرگرمیوں میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 15 جون 2026 کو روزنامہ’’ نئی بات‘‘ میں شائع ہونے والے ایک کالم کے حوالے سے توفیق بٹ کے خلاف دائر کی گئی شکایت بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور آزادیٔ صحافت و آزادیٔ اظہار کو دبانے کی کوشش ہے۔ نوٹس کے مطابق مذکورہ کالم عوامی امور، گورننس اور انتظامی معاملات پر صحافتی تجزیہ اور رائے پر مبنی تھا، جس میں کسی مخصوص افسر کا نام نہیں لیا گیا۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عوامی اداروں اور انتظامی ڈھانچے پر تنقید جمہوری معاشروں میں صحافت کا تسلیم شدہ اور آئینی طور پر محفوظ حق ہے، جبکہ شکایت آئین کے آرٹیکل 19، 19-اے، 4 اور 14 میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ پیکا قانون، ہتکِ عزت کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت بھی صحافتی تنقید اور عوامی مفاد کے معاملات پر اظہارِ رائے کو تحفظ حاصل ہے۔قانونی نوٹس میں پی اے ایس ایسوسی ایشن کی شکایت کو قانونی بنیاد سے محروم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چونکہ کالم میں کسی فرد یا مخصوص افسر کی نشاندہی نہیں کی گئی، اس لیے ایسوسی ایشن یا اس کے عہدیداران ہتکِ عزت کا دعویٰ کرنے کا قانونی جواز نہیں رکھتے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شکایت کا مقصد صحافی کو ہراساں کرنا، خاموش کرانا اور آزاد صحافت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
132
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل