عالمی یوم آزادی صحافت پر ملک بھر کی طرح لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے تحت تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں” پیکا” کے کالے قانون کے خلاف جدوجہد تیز کرنے اور اس قانون کے خاتمے کا عزم کیا گیا۔ لاہور پریس کلب میں منعقدہ تقریب کی صدارت پی یوجے کے نائب صدر شیر علی خالطی نے کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی سینئر صحافی علامہ صدیق اظہر تھے۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری پی یوجے قمرالزمان بھٹی ، جنرل سیکرٹری لاہور پریس کلب افضال طالب ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ ، فیڈرل کمیشن فار سیفٹی آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز کی پنجاب سے ممبر تمثیلہ چشتی سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ تقریب میں پیکا کے کالے قانون کے خلاف اور میڈیا ورکرز کی معاشی بدحالی کے خاتمے کی جدوجہد کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا پیکا کا قانون آزادی صحافت کے حق کو دبانے کی کوشش ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ۔اس قانون کے تحت پاکستان میں ہر سال 60 سے 70 صحافیوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جاتا ہے گرفتاریاں عمل کی لائی جاتی ہیں ۔ پاکستان دنیا کے 180 ملکوں میں آزادی صحافت کے حوالے سے 153 ویں نمبر پر ہے جو آزاد میڈیا کی بدترین شکل ہے ۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں پر پابندیوں کے اس قانون کو فوری طور پر ختم کرئے اور صحافیوں کو معاشی طور پر بدحالی سے بچانے کے لئے انہیں بروقت تنخواہیں ادا کی جائیں جبکہ آئی ٹی این ای کے چیئرمین کی فوری تعیناتی کی جائے ۔ تقریب میں پی یوجے کے سابق صدر گوہر بٹ ، زاہد رفیق بھٹی سابق جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن، ننکانہ یونین آف جرنلسٹس ( سب یونٹ پی یوجے ) کے صدر شیخ آصف ، ننکانہ پریس کلب کے صدر افضل الحق ، لاہور پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی کامران ،خان ،ظہیر شیخ ، ایگزیکٹو ممبر پی یوجے صلاح الدین بٹ، جمال احمد ، سینئر صحافی معظم خلیل، سید شاکر علی شاہ جاوید ہاشمی ، ناصر محمود بھٹی،، شہزاد ملک ، نواز طاہر ، تنویر ملک ،فرخ علی سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
