duniya news ki duniyaa daari

دنیا نیوزوالوں یہ کر ڈالا؟؟

تحریر: علی عمران جونیئر

کبھی کبھی میڈیا میں کچھ وارداتیں ایسی ہوجاتی ہیں، جنہیں پوشیدہ رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ بدنامی نہ ہو، چینلز ہوں یا چینلز میں کام کرنے والے، سب یہی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سے جو “کھانڈ” ہوا ، وہ دبا رہے، کسی کو اس کا پتہ نہ چلے۔۔ لیکن یاد رہے، جو بھی غلط کام چاہے وہ چھپ کر کریں یا سرعام، اس کا دنیا کو پتہ لگ ہی جانا ہے، ہاں اس میں دیر سویر ضرور ہوسکتی ہے۔۔ اسی طرح اگر آپ نیکیاں چھپ کر بھی کرتے ہیں تو اس کا بھی لوگوں کو اس طرح پتہ چل جاتا ہے کہ اللہ کریم اپنے فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دو کہ فلاں بندہ نیک ہے اور خاموشی سے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔۔

یہاں ہم اچھائی یا برائی پر لیکچر نہیں دے رہے، اس لئے سیدھا مدعا پہ آتے ہیں۔۔ ایک خاتون کی مریم نوازکمپلینٹ پورٹل  کو کی گئی شکایت، سترہ افراد کی نوکریاں کھاگئی۔۔ جس میں بڑی تعداد دنیانیوز میں کام کرنے والوں کی تھی۔۔ اب یہ سین کیا ہے؟ معاملہ کچھ یوں ہے کہ۔۔

دنیانیوز میں ایک ڈرائیور کام کرتا تھا۔۔(جی تھا) اب اسے نکال دیاگیا ہے۔۔ اسے نکالے ہوئے زیادہ ٹائم نہیں ہوا، ڈرائیور نے اپنے ساتھی ڈرائیور کو بتایا کہ وہ چینل کی جاب کے بعد ان  ڈرائیو چلاتا ہے اور اب تک چار لاکھ روپے جمع کرچکا ہے، جلد ہی تین لاکھ روپے مزید جمع کرکے اپنی گاڑی خرید لے گا اس کے بعد چینل کی نوکری چھوڑ دے گا۔۔ ساتھی ڈرائیور ٹھہرا لالچی اس  نے دنیانیوزکے ہی ایک کیمرہ مین کے ساتھ اس لوٹنے کا پروگرام بنایا۔اچھا دوسری طرف ڈرائیور جو ان ڈرائیو چلاتا تھا اس کی دوستی ایک لڑکی سے ہوجاتی ہے،وہ اس سے سودا سلف منگواتی تھی، یہ لا کر دیتا تھا، اس طرح ڈرائیور سمجھنے لگا کہ شاید یہ اب شادی کرلے،چنانچہ وہ اسے پروپوز کردیتا ہے، وہ لڑکی مریم نواز کمپلینٹ  پورٹل پر ہراسمنٹ کی شکایت کردیتی ہے۔۔ ڈرائیور کے ساتھی ڈرائیو ر نے ستائیس مارچ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈرائیور کو اوریگا سینٹر بلایا اور کہنے لگے کہ تمہیں معلوم ہے ہمارے بہت اوپر تک تعلقات ہیں ہم تھانہ غالب مارکیٹ میں تمہارے خلاف سنگین جرم کا مقدمہ درج کرکے تمہیں بدنام کر دینگے اور تم نوکری سے بھی جاؤگے۔لہذا ہمیں فوری پانچ لاکھ روپے دو۔۔(یہ بات مدعی نے تھانہ غالب مارکیٹ میں درج ایف آئی آر میں کہی ہے)۔۔لیکن پپو کا کہنا ہے کہ جب خاتون نے ہراسمنٹ کا کیس کیااور ڈرائیور کو پتہ لگا تو اس نے یہ بات اپنے ساتھی ڈرائیور سے ڈسکس کی، جس نے اپنے ہی ادارے دنیانیوزکے ایک کیمرہ مین اور نائنٹی ٹو کے ایک کیمرہ مین کو اس بارے میں بتایا جس کے بعد تینوں نے پلاننگ کی کہ کسی طرح اس ڈرائیور سے چار لاکھ روپے اینٹھے جائیں۔۔

مدعی ڈرائیور شاہد طفیل نے تھانہ غالب مارکیٹ لاہور میں جن تین لوگوں کے خلاف بھتہ خوری اور انہیں تین لاکھ چالیس ہزار روپے دینے کی ایف آئی آر درج کرائی ان میں عمیر لطیف، عاشق اور یاسر رفیق شامل ہیں۔۔

اب چلتے ہیں پپو کی طرف، پپو کے مطابق تینوں نے ڈرائیو ر کو جھانسے میں لیا کہ تھانہ غالب مارکیٹ میں اپنی بہت جان پہچان ہے، ان پولیس والوں کی ایسی تیسی ،چلو چل کر بات کرتے ہیں، جس کے بعد یہ تینوں اسے لے کر تھانے جاتے ہیں، ڈرائیور کو باہر ہی روکتے ہیں اور خود ایس ایچ او کے کمرے میں چلے جاتے ہیں، پھر کچھ دیر بعد باہر نکلتے ہیں اور ڈرائیور کو کہتے ہیں کہ لڑکی تین لاکھ روپے اور ایس ایچ او دو لاکھ روپے مانگ رہا ہے، ڈرائیور کہتا ہے کہ میرے پاس تو پیسے نہیں اتنے پیسے کہاں سے لاؤں گا، تو ساتھی ڈرائیور کہتا ہے کہ جو تونے چار لاکھ روپے جمع کئے تھے وہ کہاں ہیں، ایک بار اندر ہوگیا تو اس سے زیادہ پیسے لگ جائیں گے، نوکری الگ جائے گی، بدنامی الگ ہوگی۔۔ ڈرائیور مان جاتا ہے چار لاکھ دینے کو، وہ دوبارہ تھانے میں جاتے ہیں اور باہر نکل کربولتے ہیں کہ ایس ایچ او ایک لاکھ روپے لینے کو تیار ہوگیا، لڑکی کو تین لاکھ دینے ہونگے۔۔  اس طرح چار لاکھ روپے ڈرائیور سے ہتھیا لئے جاتے ہیں۔۔

اس کے کئی روز بعد ایک دن لٹنے والا ڈرائیور ایک  رپورٹرکے ساتھ کسی اسائنمنٹ پر جارہا ہوتا تو باتوں باتوں میں اس سے کہتا ہے کہ آپ لوگوں کا کیا فائدہ جب پولیس والے ہمیں بھی لوٹ لیں اور ہم سے پیسے لے لیںِ ، رپورٹر نے پورا واقعہ دریافت  کیا، اس کے بعد وہ اسے لے کر ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر پہنچ کر حالات سے آگاہ کردیتا ہے، ایس پی صاحب غالب مارکیٹ کے ایس ایچ او کو ان دونوں کے آنے کا بتاتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ پندرہ منٹ کے اندر اس پورے معاملے کی رپورٹ کرو۔۔رپورٹر اور ڈرائیور غالب مارکیٹ ایس ایچ او کے پاس پہنچتے ہیں جب ایس ایچ او کو پتہ لگتا ہے کہ اس نے ایک لاکھ روپے لئے اور لڑکی نے تین لاکھ، تو ایس ایچ او لاعلمی کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے ایسا تو کوئی معاملہ ہوا ہی نہیں۔ جس کے بعد وہ  ان تینوں کے نام اور فون نمبر مانگتا ہے۔ رپورٹ ایس پی انویسٹی گیشن کو دے دی جاتی ہے کہ اصل میں ہوا کیا۔۔  اس کے بعد ایس ایچ او دنیا نیوز کے ڈرائیور اور کیمرہ مین کو تھانے بلواتا ہے(جنہوں نے پیسے لئے تھے) پھر ان کی اچھے سے چھترول کرتا ہے، جس پر وہ مان جاتے ہیں کہ ایک ، ایک لاکھ ہم نے دو لاکھ روپے نائنٹی ٹو نیوزوالے کیمرہ مین نے لیاتھا۔۔ جب نائنٹی ٹو نیوز والے کیمرہ مین کو فون کرتے ہیں تو وہ آگے سے دھمکیاں لگاتا ہے کہ میرا تعلق میڈیا سے ہے مجھ پر جھوٹے الزام نہ لگاؤ۔۔ کچھ دن بعد دنیانیوزکے کیمرہ مین اور ڈرائیور کی چھترول والی (تشدد والی) تصاویر وائرل ہوجاتی ہیں۔۔ دنیانیوزانتظامیہ کو پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ڈرائیور اور کیمرہ مین کی تھانے میں چھترول ہوئی ہے تو طیش میں آجاتے ہیں، پورے واقعہ کی انکوائری کی جاتی ہے۔ جس کے بعد مارننگ شفٹ کے تمام ڈرائیورز، کیمرہ مینوں کو فارغ کردیا جاتا ہے ساتھ ہی رپورٹر کو بھی نکال دیا جاتا ہے۔۔ کیوں کہ ان سب کی وجہ سے ادارے کی بدنامی ہوئی تھی۔۔

اب یہاں بہت سے سوالات بنتے ہیں۔۔ اگر دوران ڈیوٹی کسی میڈیا ورکر یا صحافی سے کوئی جرم سرزد ہوجائے تو کیا اس کی سزا اس کے تمام ساتھیوں کو بھی ملنی چاہیئے؟

رپورٹرکا کیا قصور تھا؟ کیا اس نے ادارے کے ہی ایک ڈرائیور کو انصاف دلانے کی کوشش نہیں کی تھی؟؟

اگر ادارے کے کسی ملازم کے ساتھ کوئی ظلم و ناانصافی ہوتی ہے تو کیا یہ لازمی ہے کہ ادارے کو اعتماد میں لیا جائے اور اس ظلم و انصانی کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی جائے؟

اس سارے معاملے میں قصوروار لالچی ڈرائیور اور کیمرہ مین تھے؟ کیا صرف ان دونوں کو نوکری سے نکال کر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے؟

اگر پولیس نے دنیانیوزکے لالچی ڈرائیور اور کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنایا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اپنا جرم قبول نہیں رہے تھے، بعد میں انہوں نے تصدیق کردی کہ پولیس کے نام پر انہوں نے اپنے ساتھی ڈرائیور سے رقم ہتھیائی۔۔۔

خیر، دنیانیوز والوں میڈیا ہاؤس بننے کی کوشش کرو، اسٹینڈ لیا کرو، رئیل اسٹیٹ کی دکان نہ بنو، کہ سارا سا کوئی الزام آیا نہیں فوری اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کردی۔۔ فراڈ کا شکار ہونے والا بھی آپ کا ملازم تھا، فراڈ کرنے والے بھی آپ کے ملازم تھے؟  سارے معاملات آپ کے سامنے کھل کر آچکے تھے۔۔ ایسے میں تمام ڈرائیورز، کیمرہ مینوں  اور رپورٹرکو نوکری سے نکال کر کیا آپ نے انصاف  کیا؟ کبھی سوچئے گا اس پر۔ ہمارا کام تھا سمجھانا اور سوال اٹھانا، یہ ہم کرتے رہیں گے۔۔(علی عمران جونیئر)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں