رکاوٹیں، دباؤ اور پاکستانی صحافت

ڈان کا اداریہ۔۔

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر پاکستان کے معروف اخبار ڈان نے خبردار کیا ہے کہ آزاد میڈیا پر جاری پابندیاں نہ صرف صحافیوں کے لیے پیشہ ورانہ بحران ہیں بلکہ جمہوری نظامِ حکمرانی کے لیے ایک وجودی خطرہ بھی بن چکی ہیں۔

آن پریس فریڈمز” کے عنوان سے شائع ہونے والے اداریے میں اخبار نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ دنیا بھر میں “عوامی مقبولیت کے دعویدار رہنما اور آمر” منظم میڈیا کو کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں، اور اکثر گرتے ہوئے اعتماد کو روایتی صحافت کو بدنام کرنے کے جواز کے طور پر کیوں پیش کیا جاتا ہے۔اداریے میں پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا، جس میں پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش مسلسل پابندیوں، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کے رجحان کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ کو میڈیا انڈسٹری کو درپیش دباؤ کا جامع جائزہ قرار دیا گیا۔

اداریے کے مطابق یہ صورتحال اس تاثر کو چیلنج کرتی ہے کہ پاکستانی میڈیا اپنی مرضی سے عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ساختی رکاوٹیں اور بیرونی دباؤ صحافتی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں۔اداریے میں کہا گیا کہ “حقیقت یہ ہے کہ پوری میڈیا انڈسٹری کو ایک ایسی ریاست کے جابرانہ اقدامات کے ذریعے بتدریج گھونٹا جا رہا ہے جو قانون اور اصولوں سے آہستہ آہستہ دور ہو چکی ہے”، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ضابطہ جاتی اور غیر رسمی پابندیوں کے مجموعی اثرات نہایت گہرے ہیں۔اخبار نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آزادیٔ صحافت اور شہری آزادیوں کے درمیان بنیادی تعلق کو سمجھیں، اور خبردار کیا کہ آزاد میڈیا کی کمزوری بالآخر انفرادی حقوق اور جمہوری احتساب کو خطرے میں ڈال دے گی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں