آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے عملی اقدامات کا مطالبہ۔۔

یومِ مزدور کے موقع پر اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں محنت کشوں، صحافیوں اور مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا ایک بھرپور عوامی اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، نجکاری، جبری بے دخلی، آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور مزدوروں کی برطرفیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عزم دہرایا گیا۔یہ اجتماع پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر  راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے منعقد کیا گیا، تاہم اس کی تنظیم، رابطہ کاری اور مختلف یونینز کو یکجا کرنے میں سی ڈی اے ایمپلائز یونین (پاشا گروپ) نے کلیدی اور نمایاں کردار ادا کیا، جس کے ذریعے مزدور، صحافتی، سماجی اور سیاسی تنظیمیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہوئیں۔اجتماع میں شریک مختلف تنظیموں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مہنگائی میں کمی لانے، پبلک سیکٹر اداروں کی نجکاری روکنے، مزدوروں کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ ختم کرنے اور آزادیٔ اظہار کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اعلامیے میں کم از کم اجرت کو پچاس ہزار روپے مقرر کرنے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے پر بھی زور دیا گیا۔شرکاء نے 1886ء کے شکاگو کے مزدور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں آج بھی دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں بھی مزدور طبقہ نجکاری، بے دخلی، پنشن میں کٹوتیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جس کے خلاف منظم جدوجہد ناگزیر ہے۔اجتماع میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں معاشی ناہمواری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں ایک طرف دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب مزدور، کسان اور متوسط طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ اسلام آباد کی قدیمی بستیوں مسلم کالونی، نورپور شاہاں اور سیدپور سے مکینوں کی بے دخلی کو ایک سنگین انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ یہ اجتماع اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ محنت کش طبقہ اب بکھرا ہوا نہیں بلکہ ایک منظم اور مشترکہ جدوجہد کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس اتحاد کو ممکن بنانے میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور سی ڈی اے ایمپلائز یونین (پاشا گروپ) نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔اس موقع پر مختلف رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی نے کہا “میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جبری برطرفیاں لمحۂ فکریہ ہیں، مگر ہم متحد ہو کر اس استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔” انفارمیشن سیکرٹری مدثر الیاس کیانی نے کہا:“صحافیوں کے خلاف مقدمات اور آزادیٔ اظہار پر قدغنیں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام اقدامات فوری واپس لیے جائیں اور آزاد صحافت کو یقینی بنایا جائے۔”سی ڈی اے ایمپلائز یونین (پاشا گروپ) کے جنرل سیکرٹری عزت کمال پاشا نے کہا:“یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کش متحد ہو رہے ہیں۔ نجکاری اور ٹھیکیداری نظام مزدور دشمن پالیسیاں ہیں جنہیں فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ ہم ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”نیشنل پریس کلب کے صدر عبدر رازق سیال نے کہا:“یومِ مئی ہمیں محنت کشوں کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے۔ نیشنل پریس کلب ہمیشہ مزدوروں، صحافیوں اور شہریوں کی آواز کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے لیے مزدور کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔”پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے کہا:“آزادیٔ اظہار پر قدغنیں دراصل مزدور اور صحافی دونوں کی آواز کو دبانے کے مترادف ہیں۔ جب تک سچ بولنے کی آزادی نہیں ہوگی، انصاف کا حصول ممکن نہیں۔”اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے کہا:“آج کا یہ اتحاد ایک مضبوط تحریک کی بنیاد ہے۔ ہم اس جدوجہد کو مزید وسیع کریں گے تاکہ ہر مزدور، ہر ملازم اور ہر صحافی کی آواز مؤثر انداز میں بلند ہو سکے۔”اجتماع کے اختتام پر متفقہ طور پر ایک منشورِ مطالبات پیش کیا گیا، جس کی شرکاء نے بھرپور تائید کی:پبلک سیکٹر اداروں کی نجکاری فوری طور پر روکی جائے۔ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔مزدوروں کی برطرفیوں اور جبری چھانٹی کو روکا جائے۔کم از کم اجرت پچاس ہزار روپے مقرر کر کے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔میڈیا ورکرز کے تحفظ اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔صحافیوں کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔اسلام آباد میں ماحولیاتی تباہی اور کچی آبادیوں کے انہدام کو روکا جائے اور انہیں ریگولرائز کیا جائے۔ریڈیو اور پی ٹی وی کے پنشنرز کو فوری ادائیگیاں کی جائیں۔یہ اعلامیہ مختلف مزدور، صحافتی، سماجی اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیا گیا، جس میں اتحاد، مزاحمت اور مشترکہ جدوجہد کا واضح پیغام دیا گیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں