کراچی پریس کلب اور کاروانِ اقبال کے زیرِ اہتمام مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے یومِ وفات کے موقع پر کراچی پریس کلب میں ”اقبال اور عہدِ حاضر” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، ادیبوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ علامہ اقبال کے افکار آج بھی نئی نسل کی فکری رہنمائی، قومی بیداری اور خود اعتمادی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی ممتاز محقق و دانشور ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال کے حوالے سے سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد خوش آئند ہے، تاہم اصل ضرورت یہ ہے کہ اقبال کی فکر کو عملی طور پر نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی تقریبات میں شریک دیکھ کر امید پیدا ہوتی ہے کہ اقبال کا پیغام زندہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فکرِ اقبال کو عام کرنے کا سب سے موثر ذریعہ تعلیم ہے؛ تعلیم کے ذریعے فکرِ اقبال کو ہم جہاں تک چاہیں پہنچا سکتے ہیں، مگر افسوس کہ نصاب میں اقبال کی شمولیت محدود کر دی گئی ہے اور کہیں کہیں نصاب میں مختلف درجات میں تکرار (Repetition) ہے۔ڈاکٹر معین الدین عقیل نے کہا کہ اگر بچوں اور نوجوانوں کو فکرِ اقبال سے شناسا کرنا ہے تو ان کو اقبال کے مقاصد، تصورِ خودی اور پیغامِ عمل سے روشناس کرایا جائے، اس سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پیغامِ اقبال کے فروغ کے لیے کوشاں خضدار سے قاضی محمد شعیب نے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو فکری غلامی سے نکلنے اور اپنی شناخت پہچاننے کا درس دیا۔ آج کے نوجوان اگر اقبال کا پیغام سمجھ لیں تو مایوسی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال محض شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر اور رہنما تھے۔ غلامی سے نجات اور اپنی اصل سے رجوع کا اقبالی فلسفہ ہی ہمارے لیے اصل فلاح کا راستہ ہے۔ انہوں نے زبان کے فہم اور فارسی کلام کی اہمیت کے پیشِ نظر فارسی کلام کو عام کرنے پر بھی زور دیا۔کاروانِ اقبال کے مہتمم ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ اقبال کی فکر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے اور ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو اقبال سے جوڑنے کے لیے مسلسل علمی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نے اعلان کیا کہ نومبر میں علامہ اقبال کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کاروانِ اقبال میں نوجوانوں کا کردار بڑھانے اور نئی ٹیم کے ھوالے سے تشکیل نو کے لئے عمران سید علی کی سربراہی میں کمیتی تشکیل دی گئی ہے۔فصیح اللہ حسینی نے کہا کہ اقبال نے امتِ مسلمہ کو اتحاد، خود داری اور عمل کا درس دیا۔ ان کے نزدیک اقبال کی شاعری محض ادب نہیں بلکہ ایک انقلابی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اقبال کے افکار کو اپنی عملی زندگی میں اپنا لیں تو قومی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ عہدِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقبال کی فکر سے رہنمائی حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں مطالعے کا رجحان بڑھا کر اقبال شناسی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔تقریب کے دوران ڈاکٹر اورنگزیب، اشعر خان اور عبدالرحیم متقی نے کلامِ اقبال پیش کیا، جسے شرکا نے بے حد سراہا اور بھرپور داد دی۔ تقریب کے اختتام پر فاروق سمیع نے علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کا پیغام اتحاد، یقین اور خود اعتمادی کا پیغام ہے۔ انہوں نے تمام مہمانوں، شرکا اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض رانا آصف نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔اختتام پر ڈاکٹر معین الدین عقیل، پروفیسر یاسمین فاروقی، قاضی شعیب، چیئرمین گلشن اقبال ٹان ڈاکٹر فواد احمد، فصیح اللہ حسینی، پیما کے رہنما اور ممتاز سرجن ڈاکٹر اورنگزیب رہبر، اشعر خان، بہار آباد سوسٹی کے صدر عمران سید علی اور طالب علم رہنما عبدالرحیم متقی کو کراچی پریس کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔
کراچی پریس کلب میں علامہ اقبال کے یوم وفات پر سمینار کا انعقاد۔۔
Facebook Comments
