کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کے چھاپے، صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی اور پریس کانفرنس کے لیے آنے والے افراد کی گرفتاری پر شدید ردعمل، دی گوادر پوسٹ نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔دی گوادر پوسٹ کے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب ایک تاریخی اور جمہوری ادارہ ہے جو صحافیوں کے حقوق اور عوام کو سچ تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پولیس کی اس کاروائی نے نہ صرف آزادی صحافت بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔دی گوادر پوسٹ منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا ایک لازمی ستون ہے اور اس پر حملہ دراصل عوام کے حقِ معلومات پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، ایسے واقعات نا صرف ملک میں آزادی صحافت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔دی گوادر پوسٹ منیجمنٹ نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی مکمل ضمانت فراہم کی جائے۔
252
کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا چھاپہ،گرفتاریاں، صحافیوں سے بدتمیزی ۔۔
اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
”کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا چھاپہ،گرفتاریاں، صحافیوں سے بدتمیزی ۔۔“ ایک تبصرہ
تبصرے بند ہیں
پولیس ٹیسٹ کر رہی ہے کہ بلوچستان کے صحافی کتنا ردعمل دیتے ہیں اگر صحافیوں کا ردعمل نارمل ہوا تو یہ آئے روز پریس کلب میں گھس کر لوگوں کو ماریں گے اگر ردعمل شدید ہوا تو آئندہ احتیاط کریں گے