governor house ke samne sahafion ka ahtejaaj 155

صحافیوں پر تشدد کا سلسلہ بند کیا جائے ، کے یوجے۔۔

صحافی راہنمائوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے لیے آزادانہ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے اور ان پر تشدد کاسلسلہ بند کیا جائے، بصورت دیگر صحافی برادری پورے ملک میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی اپیل پر بدھ کو یہاں کراچی پریس کلب کے سامنے کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے تحت ’’عالمی یوم آزادی صحافت‘‘ پر آزادی صحافت کے لیے ایک مظاہرہ کیا گیا، جس سے پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی، نائب صدر سعید جان بلوچ، کے یو جے کے صدر اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری عاجز جمالی، کے یوجے (دستور) کے جنرل سیکریٹری نعمت خان، کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی، سیکریٹری شعیب احمد خان، پیپ کے جنرل سیکریٹری جمیل احمد، سندھ جرنلسٹس کونسل کے منور عالم، سندھ پریس کلب کے رستم جمالی اور دیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر کے یوجے کے نائب صدور محمد ناصر شریف اور لبنیٰ جرار کا تیار کردہ ایک خصوصی پوسٹر بھی جاری کیا گیا۔مظاہرے میں پی ایف یو جے کے سینئر راہنما حسن عباس، اسسٹنٹ سیکریٹری اکبر جعفری، کے یو جے کے خازن یاسر محمود، جوائنٹ سیکریٹری طلحہ ہاشمی، سینئر صحافیوں مقبول خان،مختار احمد، شیریں جامی، موسیٰ رضا، ایمانویل سیموئیل اور اکبر بلوچ نے خصوصی شرکت کی ۔مقررین نے صوبہ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے صحافیوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کہ گذشتہ دنوں پنو عاقل کے سینئر صحافی پریل دایو اور ان کے بیٹے کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا نیوز کے رپورٹر شہباز خان، ڈان کے فوٹو گرافر فیصل مجیب اور اے پی کے فوٹو گرافر شکیل عادل کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے کیمرے تک چھین لیے گئے۔جب کہ کورنگی میں خاتون صحافی روبینہ ارشد پر فائرنگ بھی کی گئی۔ انہوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے تشدد اور فائرنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے ”صحافیوں پر تشدد کا سلسلہ بند کیا جائے ، کے یوجے۔۔“

  1. بینرز تھام کر صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے پریس کلب کے عہدیداران اسے کہیں کہ سب سے بڑے غاصب اور استحصال کرنے والے وہ خود ہیں ۔ اخبار و ٹی وی مالکان کا نمبر تو بعد میں آتا ہے ۔ یہ پریس کلبس کے نام نہاد عہدیدار ۔ کہنہ مشق صحافیوں کو ممبرشپ تک نہیں دیتے ۔ البتہ اپنے دوستوں کو نوازتے ہیں ۔ جن کا ص سے صحافت کی ہجے بھی نہیں آتی ۔ ان دیواروں کے پیچھے کھاؤ پیو عیش کرو کی پالیسی کارفرماں ہے ۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ۔ عرصہ دراز سے فیلڈ میں کام کرنے والوں کی اہمیت نہیں ۔ بلکہ ان کو نوکری کے لیے درخواست کی جائے تو جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے ۔ پریس کلبس کو ملنے والی گرانٹ کہاں تقسیم ہوتی ہے کچھ نہیں پتا ۔ میں بذات خود کئی ایسے مرد و خواتین صحافیوں کو جانتا ہوں ۔جق اس وقت غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور یہی لوگ ان کا منہ چڑاتے ہیں ۔ قریب تک آنے نہیں دیتے ۔ ان۔کی حیثیت کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ ان کو ممبر شب دیں گے تو سہولتیں بھی دینی ہوگی ۔ صرف پارٹی بازی چلتی ہے ۔ اور سیاست ۔ تو عرض یہ ہے کہ چند سال میں ہی۔ صحافتی میدان مارکر امیر ہونے والے اپنی واہ واہ سننے کے بجائے ان آہوں پر بھی توجہ دیں ۔ جو ان سے دروازے کے آگے کھڑے فریاد کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں ممبر شب حاصل کرنے کی کیا شرائط ہیں ذرا ان کی وضاحت فرمائیں ۔ میڈیا مالکان کو اگر ورکروں کے معاملات سے دلچسپی نہیں تو اس کی وجہ آپ تمام سینئر صحافی ہیں جن کے اپنے کھانے پینے کمانے کے کھاتے کھلے ہیں ۔ لیکن آپ کسی غریب کی آواز بننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ بلکہ ایسے کہنہ مشق اور غریب صحافیوں کاتو داخلہ بھی ممنوع ہے ۔

  2. بینرز تھام کر صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے پریس کلب کے عہدیداران اسے کہیں کہ سب سے بڑے غاصب اور استحصال کرنے والے وہ خود ہیں ۔ اخبار و ٹی وی مالکان کا نمبر تو بعد میں آتا ہے ۔ یہ پریس کلبس کے نام نہاد عہدیدار ۔ کہنہ مشق صحافیوں کو ممبرشپ تک نہیں دیتے ۔ البتہ اپنے دوستوں کو نوازتے ہیں ۔ جن کا ص سے صحافت کی ہجے بھی نہیں آتی ۔ ان دیواروں کے پیچھے کھاؤ پیو عیش کرو کی پالیسی کارفرماں ہے ۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ۔ عرصہ دراز سے فیلڈ میں کام کرنے والوں کی اہمیت نہیں ۔ بلکہ ان کو نوکری کے لیے درخواست کی جائے تو جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے ۔ پریس کلبس کو ملنے والی گرانٹ کہاں تقسیم ہوتی ہے کچھ نہیں پتا ۔ میں بذات خود کئی ایسے مرد و خواتین صحافیوں کو جانتا ہوں ۔جق اس وقت غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور یہی لوگ ان کا منہ چڑاتے ہیں ۔ قریب تک آنے نہیں دیتے ۔ ان۔کی حیثیت کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ ان کو ممبر شب دیں گے تو سہولتیں بھی دینی ہوگی ۔ صرف پارٹی بازی چلتی ہے ۔ اور سیاست ۔ تو عرض یہ ہے کہ چند سال میں ہی۔ صحافتی میدان مارکر امیر ہونے والے اپنی واہ واہ سننے کے بجائے ان آہوں پر بھی توجہ دیں ۔ جو ان سے دروازے کے آگے کھڑے فریاد کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں ممبر شب حاصل کرنے کی کیا شرائط ہیں ذرا ان کی وضاحت فرمائیں ۔ میڈیا مالکان کو اگر ورکروں کے معاملات سے دلچسپی نہیں تو اس کی وجہ آپ تمام سینئر صحافی ہیں جن کے اپنے کھانے پینے کمانے کے کھاتے کھلے ہیں ۔ لیکن آپ کسی غریب کی آواز بننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ بلکہ ایسے کہنہ مشق اور غریب صحافیوں کاتو داخلہ بھی ممنوع ہے ۔

  3. بینرز تھام کر صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے پریس کلب کے عہدیداران اسے کہیں کہ سب سے بڑے غاصب اور استحصال کرنے والے وہ خود ہیں ۔ اخبار و ٹی وی مالکان کا نمبر تو بعد میں آتا ہے ۔ یہ پریس کلبس کے نام نہاد عہدیدار ۔ کہنہ مشق صحافیوں کو ممبرشپ تک نہیں دیتے ۔ البتہ اپنے دوستوں کو نوازتے ہیں ۔ جن کا ص سے صحافت کی ہجے بھی نہیں آتی ۔ ان دیواروں کے پیچھے کھاؤ پیو عیش کرو کی پالیسی کارفرماں ہے ۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ۔ عرصہ دراز سے فیلڈ میں کام کرنے والوں کی اہمیت نہیں ۔ بلکہ ان کو نوکری کے لیے درخواست کی جائے تو جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے ۔ پریس کلبس کو ملنے والی گرانٹ کہاں تقسیم ہوتی ہے کچھ نہیں پتا ۔ میں بذات خود کئی ایسے مرد و خواتین صحافیوں کو جانتا ہوں ۔جق اس وقت غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور یہی لوگ ان کا منہ چڑاتے ہیں ۔ قریب تک آنے نہیں دیتے ۔ ان۔کی حیثیت کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ ان کو ممبر شب دیں گے تو سہولتیں بھی دینی ہوگی ۔ صرف پارٹی بازی چلتی ہے ۔ اور سیاست ۔ تو عرض یہ ہے کہ چند سال میں ہی۔ صحافتی میدان مارکر امیر ہونے والے اپنی واہ واہ سننے کے بجائے ان آہوں پر بھی توجہ دیں ۔ جو ان سے دروازے کے آگے کھڑے فریاد کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں ممبر شب حاصل کرنے کی کیا شرائط ہیں ذرا ان کی وضاحت فرمائیں ۔ میڈیا مالکان کو اگر ورکروں کے معاملات سے دلچسپی نہیں تو اس کی وجہ آپ تمام سینئر صحافی ہیں جن کے اپنے کھانے پینے کمانے کے کھاتے کھلے ہیں ۔ لیکن آپ کسی غریب کی آواز بننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ بلکہ ایسے کہنہ مشق اور غریب صحافیوں کاتو داخلہ بھی ممنوع ہے ۔

تبصرے بند ہیں