sahafion ki wafd ka jamia ul murshad or al ghazali university ka dora

صحافیوں کے وفد کا جامعہ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کا دورہ

مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافیوں نے جامعة الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ تعلیمی رپورٹرز پر مشتمل صحافیوں کے اس وفدنے جامعة الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی شعبہ جات کو دیکھا۔ وفد کی آمد پر سرپرست اعلی جامعة الرشید اور چانسلر الغزالی یونیورسٹی مفتی عبدالرحیم صاحب نے استقبال کیا۔ اس کے بعد وفد کو دارالافتاءجامعة الرشید، مجمع العلوم الاسلامیہ کے مرکزی دفتر، جے ٹی آر میڈیا ہاﺅس، شعبہ فقہ المعاملات الاسلامیہ، کلیة الشریعہ، فقہ الحلال، المنائی ایسوسی ایشن سمیت جامعة الرشید کے مختلف شعبہ جات کا اسٹڈی ٹور کروایا گیا۔ وفد کو جامعة الرشید کے نظام تعلیم کے تعارف پر مشتمل ویڈیوڈاکومنٹریز بھی دکھائی گئیں۔ اس کے بعد سرپرست اعلیٰ جامعة الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبدالرحیم صاحب وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ریاست جن خطرات سے دوچار ہے، ان کا حل دینی و عصری تعلیم کا امتزاج ہے۔ جامعة الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کے نظام تعلیم کی بنیاد تین اصولوں پر قائم ہے: درپیش بحرانوں کو تعلیم کے ذریعے حل کرنا۔ نوجوانوں کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنا۔ مستقبل کے خطرات سے باخبر ہونا اور ان کی تیاری کرنا۔ انہوں نے صحافیوں کے وفد سے کہا کہ الغزالی یونیورسٹی کے نظام تعلیم کی بنیاد تربیت پر قائم ہے۔ تربیت کا دائرہ کار یہ دس موضوعات ہیں: وطن سے محبت۔ ملک کے نقصان کو ذاتی نقصان سمجھنا۔ اجتماعیت کو برقرار رکھنا اور سیاسی، مذہبی اختلافات کو محدود کرنا۔ قومی سطح پر نظم و ضبط اور ڈسپلن کا اہتمام کرنا۔ ریاست کے حقوق ادا کرنا۔ ریاست عوام کے حقوق ادا کرے۔ دوسروں کی خدمت کرنا اور اپنا حق چھوڑنے کے لیے تیار رہنا۔ محنت اور جدوجہد کرنا۔ قوم کو اسکل فل اور ہنرمند بنانا۔ ذاتی اور قومی سطح پر خودکفالتی نظام اختیار کرنا، تاکہ ہم دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔ انہوں نے میڈیا پرسنز سے یہ بھی کہا کہ ہمیں بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ملکی مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ریاستی ادارے اگر نہیں بچیں گے تو ملک خطرے میں پڑ جائے گا۔ الغزالی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذیشان احمد نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ الغزالی یونیورسٹی دینی و عصری تعلیم کے درمیان فاصلے ختم کرے گی۔ علمائے کرام کے علوم کو مین اسٹریم کرے گی۔ یونیورسٹیوں میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ قوموں کا بیانیہ بدلے۔ ان شاءاللہ ہماری کوشش ہوگی کہ نسل نو کی تربیت کریں اور ان کے اسکلز بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیکنالوجی کی تعلیم اور فروغ کے لیے الغزالی یونیورسٹی برائے ٹیکنالوجی بھی بنائیں گے جس کا نام جی یو ٹیک ہوگا۔ صحافیوں کے اس وفد میں پاکستان کے نمایاں ٹی وی چینلز اور اخبارات کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں: جیونیوز، جی این این، دنیا ٹی وی، نیو نیوز، ایکسپریس ٹی وی، ڈان ٹی وی، ہم ٹی وی، 24 نیوز، اے آر وائی نیوز، سماءٹی وی، بول ٹی وی، 92 ٹی وی، سنو ٹی وی اور دی نیوز شامل ہیں۔ تقریب کے اختتام پر صحافیوں نے سوالات بھی پوچھے، جامعہ کے تعلیمی نظام کو سراہا اور دینی و عصری تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔

ابصارعالم حملہ کیس، ملزمان پر فردجرم عائد نہ ہوسکی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں