shahid aslam se hamara koi taluq nahi

شاہد اسلم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، فیکٹ فوکس۔۔

فیکٹ فوکس کے صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلِخانہ کے اثاثوں میں مبینہ اضافے کی معلومات پر تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر نے بعدازاں فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والے اعداد وشمار کی تردید کی تھی۔فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے مدیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی کہ شاہد اسلم اس ویب سائٹ پر جنرل باجوہ اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں سے متعلق شائع ہونے والی خبر سے کسی بھی طرح سے منسلک تھے۔ ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم کا کہنا ہے کہ شاہد اسلم نے کبھی بھی اس خبرپر فیکٹ فوکس کے لیے کام نہیں کیا۔واضح رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں تحقیقاتی جریدے فیکٹ فوکس کی جانب سے اس وقت کے حاضر سروس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کی اثاثوں میں مبینہ اضافے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی گئی تھی۔اس تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہونے کے بعد سے ان کی اہلیہ اور بہو کے اثاثوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا۔صحافی احمد نورانی کی اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹیکس ریکارڈ لیک ہونا ٹیکس قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔اس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعداد و شمار شیئر کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک خاص گروپ نے نہایت چالاکی و بد دیانتی سےاثاثوں کو منسوب کیا ہے، یہ سراسر غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ اثاثے آرمی چیف کے چھ سالہ دور میں ان کے سمدھی کی فیملی نے بنائے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’جنرل باجوہ، ان کی اہلیہ اور خاندان کا ہر اثاثہ ایف بی آر میں باقاعدہ ڈکلیئرڈ ہے۔

ابصارعالم حملہ کیس، ملزمان پر فردجرم عائد نہ ہوسکی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں