tankhuahein or wjubaat eid se qaabal ada kiye jaeneg

صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ۔۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بول نیوز کے اینکر پرسن جمیل فاروقی کو کراچی میں گرفتار کرکے لاپتہ کیے جانے کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں کیخلاف تواتر سے ہونے والے واقعات کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں اور جمیل فاروقی کو رہا اور ان سمیت دیگر صحافیوں کیخلاف انتقامی کاررائی کے طور پر درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا حکم دیں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر شاہد اقبال اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمیل فاروقی کیخلاف اسلام آباد پولیس نے گذشتہ روز یعنی 21 اگست کی رات دس بج کر 55 منٹ پر ان کے ایک وی لاگ پر مقدمہ درج کیا اور چند گھنٹوں بعد ہی انہیں کراچی سے اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ بول نیوز میں ایک پروگرام میں شرکت کرکے گلشن اقبال میں واقع اپنی رہائشگاہ جارہے تھے نامعلوم افراد انہیں گاڑی سمیت اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں ہے جمیل فاروقی کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد پولیس نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے ٹوئٹ کرکے ان کی گرفتاری کا اعلان کیا لیکن بعد میں یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا گیا بیان میں کہا گیا ہے کہ جمیل فاروقی کا وی لاگ قابل اعتراض اور صحافتی اور اخلاقی روایات کے منافی ہے لیکن جس طرح انہیں لاپتہ کیا گیا ہے کہ یہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے بلکہ بطور ملزم ان کے دفاع کے بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ جمیل فاروقی کی گرفتاری فوری طور پر ظاہر کی جائے اور انہیں ان کیخلاف درج مقدمے میں متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں