cda se plots lene wale sahafion ki fehrist talb

سی ڈی اے سے پلاٹس لینے والے صحافیوں کی فہرست طلب

پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو متعلقہ کوٹہ یا کسی دوسرے قانون یا پھر اعلیٰ حکام کی ہدایت پر 1980ء سے لیکر اب تک صحافیوں اور میڈیا کارکنان کو اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں فراہم کردہ پلاٹس کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق  درخواست دہندہ کی جانب سے جو معلومات طلب کی گئی تھیں وہ یہ ہیں: ۱) اسلام آباد میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو پلاٹس دینے کے کوٹہ سے جڑے قواعد و ضوابط کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں، ۲) جن صحافیوں کو متعلقہ قواعد و ضوابط کیا پھر کسی دوسرے قانون یا پھر حکامِ بالا کی ہدایت پر 1980ء سے لیکر اب تک پلاٹس دیے گئے ہیں ان کی فہرست فراہم کی جائے، ۳) اسلام آباد کے سیکٹر F-6/1 میں نیشنل پریس کلب کو دی گئی تھی زمین کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں، ۴) سی ڈی اے کی جانب سے 18؍ اگست 2008ء کو جاری کردہ خط کے ذریعے ٹرسٹ (نیشنل پریس کلب) کو دی جانے والی تین ہزار مربع گز کی جائیداد کی دستاویزات اور معلومات فراہم کی جائیں، ۵) اس جائیداد کے حوالے سے دی جانے والی منظوری کے متعلق دستاویزات اور تفصیلات فراہم کی جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت یہ زمین نیشنل پریس کلب کو دی گئی اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس پلان کی منظوری کس نے دی، ۶) سی ڈی اے کی جانب سے نیشنل پریس کلب کو فراہم کی گئی مالی، تکنیکی، ترقیاتی یا پھر کسی دوسری نوعیت کی گئی مدد کے متعلق تفصیلات اور دستاویزات فراہم کی جائیں، ۷) سی ڈی اے اور ٹرسٹ (نیشنل پریس کلب) کے درمیان ہونے ولے معاہدے کے متعلق معلومات اور دستاویزات فراہم کی جائیں۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے دو فروری کو سنائے گئے فیصلے کے مطابق، کمیشن میں ہونے والی سماعت اور جاری کردہ نوٹسز کے مطابق، سی ڈی اے نے معلومات کا تبادلہ کیا لیکن درخواست گزار کو پلاٹ لینے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی فہرست نہیں دی۔ حکومت کے پریس انفارمیشن افسر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ریکارڈ یا معلومات فراہم کی جا سکے۔ تاہم، درخواست گزار نے سی ڈی اے کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی اسے یکم ستمبر 2021ء کو دائر کردہ درخواست کے مطابق معلومات فراہم کی جائیں۔ 23؍ ستمبر 2021ء کو سی ڈی اے کے وکیل نے سماعت میں حصہ لیا اور متعلقہ معلومات کی فراہمی کیلئے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ تاہم، ایسا نہیں ہوا۔ درخواست گزار کی جانب سے رجوع کیے جانے پر کمیشن نے دو فروری کو قرار دیا کہ قانون کے مطابق یہ معلومات پبلک انفارمیشن ہے اور اُن صحافیوں کی فہرست پیش کی جائے جنہیں متعلقہ قواعد و ضوابط، متعلقہ کوٹہ یا پھر حکامِ بالا کی ہدایت یا حکم پر 1980ء سے لیکر اب تک اسلام آباد میں پلاٹس دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے درخواست منظور کرتے ہوئے سی ڈی اے ڈائریکٹر ایم اول (ویسٹ) اور ڈائریکٹر (ایسٹ) کو ہدایت کی گئی کہ درخواست گزار کو مطلوبہ فہرست فراہم کی جائے، اور ساتھ ہی کمیشن کو آگاہ کیا جائے کہ فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں