shaheed sashafi ki famaily ko insaaf dia jae

صحافی قتل کیس، کیس پراپرٹی پیش نہ ہوسکی۔۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ نجیب  اللہ خان کاکڑ کے روبرو شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی قتل کیس کی سماعت کی ، عدالت نے پولیس کی جانب سے کیس پراپرٹی عدالت کے رو برو پیش نہ کئے جانے پر آئندہ سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔ بدھ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ نجیب اللہ خان کاکڑ کے روبرو شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی قتل کیس کی سماعت ہوئی دوران سماعت مقتول صحافی عبدالواحد رئیسانی شہید کے بھائی اسفند یار رئیسانی ان کے وکیل سینئر قانون دان ملک ممتاز محفوظ ایڈووکیٹ عدالت کے رو برو پیش ہوئے جبکہ دوران سماعت پولیس کی جانب سے فردکے گواہ سب انسپکٹر عبدالکریم بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے تاہم کیس پراپرٹی پیش نہ کئے جانے پرعدالت نے آئندہ سماعت 24 جون تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت سینئر قانون دان طاہر حسین ایڈووکیٹ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظو راحمد رند ، صحافی شعیب رئیسانی ، محمد عظیم رئیسانی ودیگر بھی احاطہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظور احمد رند نے کہا کہ بلوچستان میں40 سے زائد صحافی مختلف واقعات میں شہید ہوئے ہیں تاہم شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کے قتل کا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے کہ جس میں بلوچستان کے کسی صحافی کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

chaar hurf | Imran Junior
chaar hurf | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں