اے آر وائی نیوز سے تعلق رکھنے والے اینکر ارشد شریف کے بعد صابر شاکر کے خلاف بھی سندھ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ صابر شاکر کے خلاف محمود حسن نامی شہری کی مدعیت میں دفعہ 153، 505 اور 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سندھ کے ضلع میر پور خاص کے مہران پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صابر شاکر نے اداروں کے خلاف بیان دیے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں ملکی اداروں کے خلاف بیان دینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے ) کے صدرابراہیم لکی ،جنرل سیکرٹری خاوربیگ و ایگزیکٹوکونسل نے اے آروائی کے ا ینکرپرسن صابرشاکرکیخلاف مقدمہ درج کرنے پرشدید برہمی کا اظہارکیاہے اور اس کوآزادی اظہارکیخلاف سنگین کاروائی قراردیاہے،اورسندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپرمقدمہ خارج کیا جائے ۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں ان کاکہناتھاکہ حکومت کے آنے کے فوری بعدمتعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں ،اس سے قبل اینکرپرسن ارشدشریف کیخلاف بھی مقدمہ درج کیاگیا جوآزادی اظہاررائے پرپابندی کے مترادف ہے،سابقہ حکومت کے دور میں سینئرصحافی محسن بیگ سمیت کئی صحافیوں کوڈاریادھمکایاگیا اورمقدمے درج کئے گئے جس کوکسی طورپرقبول نہیں کیاجاسکتا ۔ان کامزیدکہناتھاکہ مسلم لیگ ن کا حکومت میں آنے کے بعد میڈیاکی آزادی کیلئے جودعوے تھے وہ ایسی مسلسل کاروائیوں کے بعددھرے کے دھرے رہ گئے،لہذا حکومت فوری طورپرایسے اقداما ت کرے جس سے بلاخوف وخطر آزادانہ ماحول میں اپنی پیشہ وارانہ فراءض انجا م دے سکیں۔۔

