حکومت نے امریکہ کی آن لائن پے منٹ کمپنی ’پے پال‘کو پاکستان لانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی معاشی فورم کی سالانہ میٹنگ میں شرکت کریں گے جہاں وہ ’پے پال‘ کے نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے اور انہیں پاکستان میں اپنی سروسز شروع کرنے کی دعوت دیں گے۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماﺅں، انرجی سیکٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور تجارتی وفود کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوں گی۔ پے پال کے نمائندوں کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات میں وزارت خزانہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام بھی شریک ہونگے۔ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آئی ٹی سیکٹر میں اصلاحات اور پے پال کے پاکستان نہ آنے کی وجوہات کے بارے میں بریفنگ لی۔ واضح رہے کہ پاکستان کی طرف سے 2015ءاور 2019ءمیں بھی پے پال کو پاکستان لانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں تاہم دونوں بار کمپنی نے پاکستان میں اپنی سروسز شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

