لاہور میں صحافی زاہد عباس ملک کی گمشدگی پر صحافتی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔فریڈم نیٹ ورک کے مطابق روزنامہ دنیا سے وابستہ ملک کئی دنوں سے لاپتہ ہیں اور مقامی پولیس ابھی تک ان کا سراغ نہیں لگا سکی۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافی کے خاندان والوں کو ان کی گمشدگی میں کسی خفیہ ادارے کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا شبہ ہے۔۔ایک مذمتی بیان میں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے کہا کہ۔ اس طرح کی گمشدگی آزادی صحافت کے خلاف ہے۔ صحافی برادری اسے برداشت نہیں کرے گی اور خاموش نہیں رہے گی۔۔آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کا کہنا ہے کہ نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے عباس کا اغوا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ملک بھر میں صحافیوں کو مسلسل ہراساں اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔راولپنڈی اسلام آباد ایڈیٹرز کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور مغوی صحافی کی بازیابی کے لیے اقدامات کا حکم دیں۔ دریں اثنا لاہور پریس کلب کے سینئرکونسل ممبرودنیا نیوزکے سینئرصحافی زاہد عباس ملک کی جبری گمشدگی کے خلاف لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں لاہور پریس کلب کی نائب صدر ناصرہ عتیق ، ممبر گورننگ باڈی مدثرحسین تتلہ ، ظہیر شیخ ، سینئرصحافی بخت گیر چوہدری، اقبال جکھڑ، راجہ ریاض، انصارحسین زاہد ، قمرزمان بھٹی ، نذیر بھٹی ، احمدہمایوں خان ، مرزارضوان بیگ ، زاہد شفیق طیب ،شاہد چوہدری، احمدرضا، امریزخان، فاروق جوہری، شیر افضل بٹ ، فرحان خان ،محبوب عالم ، احسن رضا، ندیم احمد ، ناد ررانا ، شوکت علی ، حافظ عمران ، فیصل سلہریا ، تصور رضا اور فرخ جمیل سمیت مختلف صحافتی تنظیموں کے رہنماﺅں نے مظاہرے میں شرکت کی۔مقررین نے احتجاجی مظاہرے میں چوبیس گھنٹے میں زاہدعباس ملک کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کا جبری لاپتہ ہونا سوالیہ نشان ہے ،زاہد عباس ملک ذمہ دار صحافی ہیں انھیں فوری بازیاب کروایا جائے،زاہدعباس ملک کو رہا نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کی کال دیں گے۔انھوں نے مزید کہاکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے زاہدعباس ملک کی گمشدگی کانوٹس لیں۔صحافی رہنماﺅں نے زاہد ملک کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم ، وزیر اعلی پنجاب اور متعلقہ حکام زاہد عباس ملک کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔

