اینکر پرسن ندیم ملک کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 2014 کے دھرنے کے بعد احتجاج کا ایسا مزہ آیا کہ وہ حکومت میں بھی احتجاج ہی کرتے نظر آئے، اگر اب عمران خان دوبارہ دھرنا دینا چاہتے ہیں تو ان کا یہ فیصلہ خود کشی کے مترادف ہوگا۔ سماء نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست سے جو لوگ واقف ہیں،ایک بات وہ طے کر لیں کہ وہ آرام سےنہ تو خود بیٹھیں گے اور نہ ہی حکومت کو بیٹھنے دیں گے۔جس احتجاج کا آغازانہوں نے دھرنوں سے کیا تھا،اس کے بعد انہیں احتجاج کا اتنا مزہ آیا کہ میرے خیال میں وہ حکومت میں آ کربھی احتجاج کرتے نظر آئے،یہ کیوں نہیں پکڑا گیا؟وہ کیوں نہیں پکڑا گیا؟اور اسی طرح انہوں نے ساڑھے تین سال گزار دئیے۔ حکومت میں آ کر گورننس بہتر کرنے کی بجائے، ڈیلیورکرنے کی بجائے،نظام حکومت اور اقتصادی بہتری کی بجائے وہ اس پکڑ دھکڑ میں ہی رہے اور کچھ بھی بہتر نہ کر سکے۔ندیم ملک کا کہنا تھا کہ آج عمران خان نے دوبارہ بیان جاری کیا ہے،جس میں وہ دھرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔اگر عمران خان نے اپنے پچھلے دھرنے سے کچھ سبق سیکھا ہے تو میرے خیال میں وہ ڈی چوک میں بیٹھنا پسند نہیں کریں گے۔ عمران خان کا دھرنے کا فیصلہ ایک خودکشی کا مشن ہو گا،اگر وہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ میں دوبارہ ڈی چوک میں کنٹینر رکھ کر دھرنا دوں تو وہ دھرنا بھی دے سکتے ہیں اور کنٹینر پر بھی آ سکتے ہیں لیکن وہ لوگ جو وہاں پر اکٹھےہو کر بیٹھے تھےاور اگر ان کاتجربہ عمران خان کو ہوا ہے،اور اگر انہوں نے اس سے کچھ سیکھا ہے تو میرے خیال میں وہ دوبارہ دھرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔

