وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں سیاسی آزادی کے لئے صحافتی آزادی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کا شمار ان چند خطرناک ممالک میں ہوتا ہے، جہاں صحافیوں کونہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ دن دھاڑے انہیں اغواء بھی کرلیا جاتا ہے اور موجودہ عمرانی جمہوری حکومت میں پاکستان میں سب سے زیادہ صحافیوں کا قتل عام ہوا ہے۔ ان حالات کو بدلنے لئے صحافی تنظمیوں، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔موجودہ دور حکومت میں لاتعداد صحافیوں کو صرف سچ بولنے کی پاداش میں یا اپنا موقف تبدیل کرنے پر ان کی نوکریوں سے برطرف کروایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پہلی حکومت ہے، جس نے سب سے پہلے سندھ اسمبلی میں جرنلٹس پروٹیکشن بل اسمبلی سے منظور کروایا ہے اور اس حوالے سے جلد کمیشن کی تشکیل اور اس کے ٹی او آرز بنا کر اس قانون پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ جرنلٹس کونسل کے زیر اہتمام صحافی کنونشن سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی سلمان مراد، سندھ جرنلٹس کونسل کے صدر غازی جھنڈیر، فہیم صدیقی، قاضی آصف، نواز چانڈیو سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بحثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے تو اس نے ہمیشہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کئے ہیں اور جو جو مسائل اور ایشوزصحافیوں کو درپیش رہے ہیں ان کی سدباب کے لئے کسی اور حکومت یا سیاسی جماعت نے کوئی ایسا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزادی صحافت کی سب سے بڑی علمبردار تھی، ہے اور رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صحافیوں اور صحافتی تنظمیوں کی جانب سے پیش کردا ایشوز کو ترجیعی بنیادوں پر حل کئے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی جو جو مسائل آج یہاں پیش کئے گئے ہیں، جس میں پریس کلبوں کی گرانٹ، صحافیوں کی مالی مدد، پلاٹس و دیگر کو بھی صحافی برادری اور ان کی تنظیموں کی مشاورت سے حل کردئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف ایک یا دو پریس کلبوں کو گرانٹ سندھ حکومت کی جانب سے دی جاتی تھی، لیکن آج سندھ بھر کے کم و بیش تمام اضلاع میں پریس کلبوں کو یہ گرانٹ دی جارہی ہے، جبکہ صحافیوں کی مالی مدد، ان کے ایکریڈیشن کارڈز یا دیگر کے لئے خود صحافی تنظمیوں کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو اپنی سفارشات محکموں کو پیش کرتے ہیں اور ہم اس میں کسی قسم کی کمی و بیشی کے اس کو منظور کرتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک ہی شہر میں کئی کئی پریس کلبوں کو گرانٹ فراہم کرسکے اس لئے سنئیر صحافیوں سے اس حوالے سے بات کی ہے کہ وہ اس میں ہماری مدد کریں اور حقیقی صحافیوں کے پریس کلبوں اور ان کے مسائل کے حوالے سے ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کے حامی ہیں کہ صحافیوں کو رہنے کے لئے پلاٹس ملنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ججز صاحبان کو، بیوروکریٹس کو، فوجیوں کو اور وکیلوں کو پلاٹس مل سکتے ہیں تو صحافیوں کو بھی ملنے چاہیئے بے شک سیاستدانوں کو نہیں ملنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جو حالات صحافیوں اور صحافت کے لئے ہیں ایسے حالات آمرانہ دور میں بھی نہیں دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ مین نے آمر ضیا کو بھی دور دیکھا ہے، جب اخبارات میں سینسر ہوتا تھا اور جب صبح اخبارات آتے تھے تو اس میں کئی جگہیں خالی ہوتی تھی، انہوں نے کہا کہ میں نے مشرف کا آمرانہ دور بھی دیکھا جب میڈیا پر قدغین لگائی گئی، لیکن یہ دونوں دور بھی آج کی موجودہ نالائق اور نااہل عمرانی جمہوری حکومت سے زیادہ بدتر نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمرانی جمہوری حکومت میں صحافیوں اور میڈیا کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، وہ ہم نے ضیا اور مشرف کے دور میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاتعداد ایسے صحافیوں کو سچ بولنے اور اپنا موقف تبدیل نہ کرنے کی پاداش میں نوکریوں سے برطرف کروایا گیا ہے اور آج ان میں سے بیشتر نے اپنے یو ٹیوب چینلز اور فیس بک صفحات کے ذریعے حقائق عوام کو بتانا شروع کردئیے ہیں گو کہ ان کا ان سے روزگار چھین لیا گیا ہے، میں ایسے تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ موجودہ نااہل نیازی حکومت میں سب سے زیادہ صحافیوں کا قتل عام کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات صحافتی بنیادوں پر نہ ہوئے ہوں لیکن زیادہ تر واقعات میں ان صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنے علاقوں کے مسائل اور نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس دور حکومت میں کئی صحافیوں کو دن دھاڑے اغواء کرلیا گیا، اسلام آباد میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں غائب کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا شمار ان چند خطرناک ممالک میں ہورہا ہے، جہاں صحافیوں کو کوئی تحفظ اور بولنے کی آزادی نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جس معاشرے میں بولنے کی آزادی نہ ہو، جس معاشرے میں سوچنے اور اختلاف رائے کی آزادی نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک کے صحافی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی کتنی خبروں کو جگہ ملتی ہے اور انہیں کس حد تک خبریں چلانے کی آزادی ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اگر کسی ملک میں صحافت آزاد نہیں ہے تو اس ملک میں سیاست بھی آزاد نہیں ہوسکتی، سیاست کی آزادی کے لئے صحافت کی آزادی لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت اس ملک میں سیاست کو دبانے کے لئے صحافت کوبھی دبایا جارہا ہے اور عدلیہ کو بھی دبایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں سب کو مل کر ایسی قوتوں سے لڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب سچ بولنے والے ججز، صحافیوں اور سیاستدانوں کو ساتھ مل کر کھڑا ہونا ہوگا اور ایک مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب نے مل کر یہ جدوجہد نہ کی اور ساتھ مل کر ان قوتوں کا مقابلہ نہ کیا تو ہماری آوازوں کو دبایا جاتا رہے گا اور اس کے نتیجہ میں یہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرسکے گا۔

