eid ke bad peca ke khilaf bharpoor tehreek chalane ka faisla

اسد طور حملہ، ملک گیر احتجاج کا اعلان۔۔

پی ایف یو جے نے صحافیوں اور سنیئر صحافی اسد طور پر قاتلانہ حملے کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال دے دی،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے صحافی اسد علی طور پر نامعلوم حملہ آوروں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے ، صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار اور سکریٹری جنرل ناصر زیدی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب صحافی اسد طور کو ہراساں اور مارا پیٹا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آزاد صحافی کو زدوکوب اور ہراساں کرنے کی یہ بزدلانہ حرکت میڈیا مخالف ایجنٹوں کی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے جو ملک میں آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی سےانکاری ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ کوشش صحافی برادری کو مزید دبانے کیلئے تیار کی گئی ہے کیونکہ اس سے قبل سینئر صحافی ابصار عالم پر حملہ ہوا تھا اور اب اسد علی طور نشانہ بنے ہیں، اس طرح کے حربے میڈیا اور صحافیوں کو آزادانہ پریس اور آزادی اظہار اور اظہار رائے کی حمایت کو روکنے میں ناکام نہیں ہونگے کیونکہ ہم اس کے لئے پرعزم ہیں، مجرموں کی فوری گرفتاری اور ہائی کورٹ کے جج کے ذریعہ تحقیقات کی جائیں، انہوں نے کہا ، “اگر حملہ آوروں کو گرفتار اور صحافی برادری کے تحفظ کیلئےٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہم صحافیوں پر تشدد میں ملوث تمام مجرموں کی گرفتاری کے لئے ملک گیر ہڑتال شروع کریں گے، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام صحافی اسد طور پر قاتلانہ حملے کے خلاف گذشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی ایف یو جے،نیشنل پریس کلب،آر آئی یو جے،وکلاء کے نمائندوں سمیت سول سوسائٹی اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، پی ایف یو جے نے صحافیوں اور سنیئر صحافی اسد طور پر قاتلانہ حملے کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال دے دی، احتجاج میں مقررین نے کہا کہ جن لوگوں نے قاتلانہ حملہ کیا ہے وہ نامعلوم نہیں بلکہ وہ معلوم ہیں اور یہ معلوم افراد پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرنا چاہتے ہیں ، وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی کیمرے لگنے کے باوجود ملزمان کا نہ پکڑے جانا اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،صحافیوں پر حملے بڑھتے جارہے ہیں اور صحافیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب یہ نہ ہو کہ صحافیوں کو اپنے احتجاجی مظاہرے کہیں اور منتقل کرنا نہ پڑھ جائیں ،احتجاجی مظاہرے سے ناصر زیدی، افضل بٹ ، عامر سجاد سید، طارق علی ورک، صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم،جنرل سیکرٹری انور رضا، مطیع اللہ جان، آصف بشیر چوہدری ، ناصر طفیل، طارق چوہدری،سول سوسائٹی کی رہنما فرزانہ باری، وکیل عثمان وڑائچ اور جہانگیر خان نے بھی خطاب کیا،پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ نے اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے، پریس ایسوسی ایشن کے صدر امجد نذیر بھٹی، نائب صدر حسیب منظور بھٹی اور جنرل سیکرٹری راجہ محسن اعجاز نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ صجافیوں پر حملوں سے حکومت کی نااہلی واضح طور پر نظر آرہی ہے ، قانلانہ حملوں میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کیا تو صحافی برادری انصاف کے حصول کیلے سٹرکوں پر آکر احتجاج کرنے سمیت عدالتوں سمیت ہر فورم پر جائے گی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں