peca mukhlif darkhuastein general muawnat keliye talb

الیکٹرانک کرائم قانون کا ناجائزاستعمال طاقتور کیلئے فائدہ۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے الیکٹرونک کرائم قانون کا ناجائز استعمال کرکے طاقتورکو فائدہ دیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہر کوئی دوسرے کا احتساب چاہتا ہے لیکن خود کو طاقتور بنا کراحتساب سے بچا لیتا ہے، ایف آئی اے کی حدود متعین کریں گے۔  اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزب اور پڑوسی کے جھگڑے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ دونوں فریقوں میں صلح ہوگئی۔ کنول شوزب اور پڑوسی عبدالرحمان نے عدالت میں بیان دیا کہ ہماری صلح ہوگئی ہے اس لیے مقدمات واپس لیتے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے صلح قبول کرلی تاہم ایف آئی اے کا اختیار سے تجاوز بادی النظر میں خلاف قانون قرار دیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ عوامی عہدہ رکھنے والی ایم این اے نے تنقید پر فوجداری مقدمہ کیسے قائم کرادیا ؟ منتخب ایم این اے نے تنقید پر پڑوسی سے جھگڑے کو کریمنل کیس بنادیا، ہر کوئی دوسرے کا احتساب چاہتا ہے لیکن خود کو طاقتور بنا کراحتساب سے بچا لیتا ہے، ایف آئی اے نے الیکٹرونک کرائم قانون کا ناجائز استعمال کرکے طاقتورکو فائدہ دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ صلح پر فریقین کا کیس ختم کرتی ہے لیکن ایف آئی اے کی حدود متعین کریں گے۔کنول شوزب اور ان کے شوہر اپنے گھر کے آس پاس درخت کاٹ رہے تھے جس پر ان کے پڑوسی عبدالرحمان نے ان کی تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیں تھیں۔ کنول شوزب نے پڑوسی کیخلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دائر کی تھی۔ ایف آئی اے نے درخواست پر شہری کو نوٹس جاری کیا جسے شہری نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ماہرہ خان نے آخرکار خاموشی توڑ دی۔۔
social media marketing
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں