commercialized drama bari kharabi hai

کمرشلائزڈ ڈرامہ بڑی خرابی ہے، حسینہ معین۔۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13 ویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز نویں اجلاس پاکستان میں فنون کی صورت حال پر فنون لطیفہ کی مختلف اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات حسینہ معین، شیما کرمانی، شاہد رسام، امجد شاہ ، بی گل اور کاشف گرامی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ نظامت کے فرائض عظمیٰ الکریم نے انجام دیے۔ معروف ڈرامہ رائٹر حسینہ معین نے کہاکہ آج کل ڈراموں کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ بغیر تحقیق کے کام ہورہا ہے، لوگ یہ نہیں سوچتے کہ کس طرح کے کردار سے کس طرح کے مکالمے کہلوانے چاہئیں، آج کے دور میں ڈرامے کی خرابی اس کا کمرشلائزڈ ہونا ہے۔ معروف کلاسیکل رقاصہ شیما کرمانی نے کہاکہ پرفارمنگ آرٹ کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تقریر اور اظہار کی آزادی ہو، جو ہمیں میسر ہی نہیں ہے، اس لیے یہ آرٹ آگے نہیں بڑھ رہا، کلاسیکل آرٹ کا آگے بڑھنا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اسے پروموٹ ہی نہیں کیا جارہا۔ شاہد رسام نے کہاکہ سافٹ امیج پیدا کرنے کا کام آرٹ کا نہیں ہے، آرٹ آپ کی روح پر جمی گرد کو صاف کرتا ہے تب ہی آپ ایک بہتر سماج اور سوسائٹی بنتے ہیں۔ امجد شاہ نے کہاکہ ماضی میں ہم نے ایک عرصے تک ہر شعبے میں کمالات دکھائے ہیں، پی ٹی وی پر پائل کے نام سے پروگرام بھی چلتا تھا، آج کی نسل تو کئی بڑے فنکاروں کو جانتی بھی نہیں ہے۔

hubbul patni | Imran Junior
hubbul patni | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں