حکومت کو صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار مل گیا۔۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر حالیہ سالوں میں ایسی بدترین سنسرشپ لاگو کر دی گئی ہے کہ لوگ آمریت کے دن بھول گئے۔ الجزیرہ کے مطابق 2016ءمیں ’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ‘ منظور کیا گیا۔ اس قانون کو منظوری کے بعد سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت دیگر طبقات کوٹارگٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔گزشتہ ماہ موجود حکومت نے اس قانون کو مزید سخت کر دیا اور اس کا دائرہ اس قدر وسیع کر دیا کہ اب حکومت کے پاس فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے اور ان سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار آ گیا ہے۔ قانون میں اس وسعت کے بعد حکومت پر تنقید کرنا خود کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ کراچی کے صحافی بلال فاروقی بھی اس قانون کے متاثرین میں سے ایک ہیں جس نے حکومت کے خلاف ایک ٹویٹ کی اور انہیں حوالات کی ہوا کھانی پڑگئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 73سالہ تاریخ میں حالیہ جمہوری دور میں انٹرنیٹ پر جس قدر سنسرشپ لاگو کی گئی ہے، وہ آمریت کے دور میں نہیں ہوئی تھی۔

hubbul patni | Imran Junior
hubbul patni | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں