احتجاج، معاملات درست کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت۔۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس سمیت کراچی کی مختلف صحافی تنظیموں کے تحت نیوز ون سے وابستہ سینئر صحافی ایس ایم عرفان مرحوم کی پہلی برسی کا انعقاد نیوز ون کے دفتر کے باہر کیا گیا جس کے بعد زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں نیوز ون کے مالکان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایس ایم عرفان سمیت نیوز ون کے تمام ملازمین کے واجبات فوری طور پر ادا کریں اور تنخواہوں کی ہر ماہ وقت پر ادائیگی یقینی بنائیں۔ صحافی تنظیموں نے نیوز ون کی انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایک ماہ میں معاملات بہتر نہیں بنائے جاتے تو پھر اگلا احتجاج نیوز ون کے دفتر کے اندر ہوگا کراچی یونین جرنلسٹس کی کال پر برسی اور احتجاج میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن آف کیمرہ جرنلسٹس، کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن، ایپنگ کے مرکزی رہنما، جنگ، دی نیوز، جاوید پریس، روزنامہ ڈان کی ہیرالڈ ورکرز یونین اور قومی اخبار ایمپلائز یونین سی بی اے کے عہدیداروں سمیت کے یو جے دستور اور مختلف مزدور تنظیموں کے رہنماوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے جن پر طاہر اے خان اپنے وعدے پورے کرو، صحافیوں کا معاشی قتل عام بند کرو، تنخواہیں اور واجبات ادا کرو، شرم کرو، ڈوب مرو “وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے” اور دیگر نعرے درج تھے اس موقع پر نیوز ون کی انتظامیہ سمیت دیگر میڈیا مالکان کیخلاف زبردست نعرے بازی بھی کی گئی۔ صحافی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا مالکان کے اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کریں صحافی تنظیمیں میڈیا ورکرز کے حقوق غصب کرنے والے ایسے میڈیا ماکان کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی اور مزدور رہنماوں کا کہنا تھا کہ اگر احمد نورانی، ایک ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باوجوہ کے اثاثوں کی تفصیلات لا سکتا ہے تو کراچی کے صحافی ان میڈیا مالکان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے لاسکتے ہیں جنہوں نے میڈیا ورکرز کے خون اور پسینے سے پوری پوری ایمپائرز کھڑی کرلی ہیں لیکن میڈیا ورکرز کو ان کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، مظاہرے کے دوران ایس ایم عرفان کی بیوہ کی آڈیو بھی سنائی گئی جس میں انہوں نے بتایا کہ نیوز ون کی انتظامیہ نے اپنے وعدوں پر من و عن عمل نہیں کیا جس پر مظاہرین نے شرم کرو، ڈوب مرو کے نعرے لگائے، رینماوں کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قلم اور کیمرے کے مزدور دیگر مزدوروں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے لیے میڈیا مالکان کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں گے۔ ہم آج تک پرامن احتجاج کرتے آئے ہیں جسے ہماری کمزوری سمجھا جارہا ہے لیکن اب ہم مزید اپنے ساتھیوں کو مرنے نہیں دیں گے اور اپنے حقوق چھین کر لیں گے، اس موقع پر کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے نیوز ون کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی تفصیلات بتائیں جس کے مطابق مختلف ڈپارٹمنٹس میں 11 ماہ سے 3 ماہ تک کی تنخواہیں واجب الادا ہیں جبکہ نیوز ون کی انتظامیہ نے ایس ایم عرفان کے انتقال کے بعد صحافی تنظیموں سے تحریری معاہدے میں اپریل 2020 تک تمام ڈپارٹمنٹس کے تمام ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، صحافی اور مزدور رہنماوں کا کہنا تھا کہ اب بات احتجاجی مظاہروں سے آگے بڑھے گی اور ہم ایسے میڈیا مالکان کے ناصرف دفاتر بلکہ گھروں کا بھی گھیراو کریں گے جو اپنے اداروں سے جبری برطرفیاں کررہے یا تنخواہیں وقت پر ادا نہیں کررہے احتجاجی مظاہرے سے کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی، پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن جاوید چوہدری، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری طحہ عبیدی، ایسوسی ایشن آف کیمرہ جرنلسٹس کے صدر محمد کاشف، کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر، لیاقت رانا، ایپنک کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور جنگ ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری شکیل یامین کانگا، ایپنک کے دوسرے دھڑے کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبیداللہ، دی نیوز ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری ظفر دار، جاوید پریس ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری رانا یوسف، ہیرالڈ ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری رشاد محمود، قومی اخبار ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری عرفان ساگر، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سابق جنرل سیکریٹری اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر احمد خان ملک، کے یو جے دستور کے صدر جاوید سلطان جدون، معروف مزدور رہنما لیاقت ساہی، سول سوسائٹی کے رہنما نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور، کے ایم سی ایمپلائز سجن یونین کے صدر ذوالفقار شاہ ممتاز قانون دان فہیم صدیقی ایڈووکیٹ ودیگر نے خطاب کیا جبکہ کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی، نائب صدر ذیشان شاہ، ممبر گورننگ باڈی کاشف مشتاق، ایسوسی ایشن آف کیمرہ جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فرحان الیاس، نائب صدر عدنان علی سمیت صحافیوں اور مزدوروں کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر تمام صحافی اور مزدور تنظیموں کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ یکم دسمبر کو روزنامہ ڈان سے جبری برطرفیوں کیخلاف ہارون ہاوس سے گورنر ہاوس تک نکالی جانے والی احتجاجی ریلی میں تمام صحافی اور مزدور تنظیمیں شرکت کریں گی

hubbul patni | Imran Junior
hubbul patni | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں