express entertainment par ustaad or shagird ka ishq

ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر استاد اور شاگرد کا عشق۔۔؟

تحریر:  ذکریا محی الدین۔۔

جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ایکسپریس انٹیرٹینمنٹ تفریحی چینلوں میں کسی قابل ذکر مقام تک ابھی تک نہیں پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کوئی سیریز یا سیریل ہمیں بالکل بھی یاد نہیں ہے جو دیکھی ہو۔ پچھلے دنوں ہمارے جیو کے ایک واقف عقیل تاشی کی ہدایت میں ایک سیریل بڑے دھوم دھڑکے سے اس پر پیش کیا گیا جس کا نام ماسٹرز انکارپوریٹ یا آئی این سی ہے۔ تا دم تحریر اس کی گیارہ اقساط پیش کی جاچکی ہیں۔ اس کے مصنف خرم نظامی ہیں۔عموما ہم اگر کسی ڈرامے کی پہلی قسط ہی فارغ ہو تو آگے نہیں دیکھتے مگر کیونکہ اس کے ہدایتکار ہمارے جاننے والے ہیں اور یکایک اس میں جیو کے سابق کانٹینٹ ہیڈ شیراز قاضی صاحب بھی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئے تو دیکھنا پڑا۔

ڈرامے کی مین کاسٹ پانچ  کالج کے طلباء ہیں۔ ان میں سے ایک معروف ٹک ٹاکر ہیں، ایک کا تعلق تھیٹر سے ہے جبکہ ان میں سے فیمیل لیڈ کوئی فیشن ماڈل ہیں شاید۔ کالج کی کینٹین کا بھی ایک کردار ٹک ٹاکر ہے۔ایک انتہائی کمزور کہانی جو بہت ساری فلموں اور ڈراموں کا ملغوبہ ہے کو  کامیڈی بنانے کی کوشش فرمائی گئی ہے۔ یہ کالج سے زیادہ کوئی سوشل کلب لگ رہا ہے مگر اس میں ہم مصنف کو مارجن دے دیتے ہیں کہ شاید ایسا ہی چل رہا ہے۔ کامیڈی کے نام پر پھکڑ پن اگر کوئی دیکھنا چاہے تو یہ سیریل اعلی مثال ہے۔ ایسی باتیں جو شائد عمر شریف کافی عرصے پہلے اپنے کیسٹوں میں کر چکے ہیں کو نئی پیکجنگ میں لکھنا اگر کامیڈی مصنف کے خیال میں ہو تو ہو۔ جس خاص بات کی وجہ سے ہم یہ لکھ رہے ہیں کہ کمال ہے ایک بسکٹ کے اشتہار پر اعتراض کرنے والوں کو یہ کیوں نظر نہیں آیا؟۔ڈرامے کی ایک کردار جو ایک پڑھاکو لڑکی ہے جس کا تکیہ کلام میری سائنس کے مطابق ہے ۔ہیرو کو ہیروئین کی جانب ملتفت دیکھ کر پلان بناتی ہے کہ اس کو جلایا جائے تاکہ وہ اسی کی جانب ملتفت ہوجائے۔اس کے لئے وہ اپنے ایک استاد کو ادائیں دکھا کر پھنساتی ہے۔استاد صاحب کو تاریخ کا استاد بتایا گیا ہے مگر وہ اپنی شاگرد کو شیکسپئیر اور مارک ٹوئین پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ او بھائی مصنف صاحب لٹریچر اورتاریخ کا فرق تو کرلیتے دیہاڑی تو لگ ہی رہی ہے۔استاد (شیراز قاضی) بھی اپنی شاگرد کی جانب جھک جاتے ہیں یہاں تک کے وہ اس سے شادی کا اعلان بھی فرما دیتے ہیں۔ آگے مزید احمقانہ باتیں ہیں استاد کہیں اپنی شاگرد کو گول گپے کھلا رہے ہیں، کہیں چھتری پکڑے رومانوی منظر کا حصہ ہیں کہیں اس کو ہاتھ لگا رہے ہیں کہیں کالج کے لان پر بیٹھے عشق بگھار رہے ہیں تو کہیں فون پر اسے اپنے ساتھ بھاگنے کا مشورہ دے کر عمر شریف والی کامیڈی کررہے ہیں۔۔۔؟ لڑکی گھر سے بھاگ رہی ہے اور ماں سے کہتی ہے کہ میں بھاگ رہی ہوں اور ماں کہہ رہی ہے دیکھ کر بھاگنا پاؤں نا مڑ جائے۔ ۔لڑکی کے اپنے ماں باپ نے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔۔۔جامعہ کراچی اور جامعہ بہا الدین ذکریا ملتان میں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ جامعہ کراچی کی پی ایح ڈی کی ایک طالبہ نے شائد خودکشی کی تھی اور جامعہ بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے ایک استاد نے۔ اس سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر اس کو بدصورتی سے کسی چینل پر پیش کرنا؟؟؟جیسا کہ ہم نے لکھا ہے ایکسپریس کوئی زیادہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں اس لئے نا پیمرا کے کان پر جوں رینگی نا انصار عباسی صاحب کو کوئی فرق پڑا۔مگر اس قسم کا پھکڑ پن دکھانے کا مقصد اگر تفریح ہے تو معذرت وہ بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ اس ڈرامے میں اور بھی بہت ساری غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دارانہ کام ہوئے ہیں۔ویب چینلوں پر شاید ایسا کام چل جاتا ہوگا ہمیں تو ایکسپریس انٹر ٹینمنٹ نے اس احمقانہ سیریل کو لے کیوں لیا پر حیرت ہے۔۔پھر ہمیں یاد آیا کہ او ہو۔۔وہاں تو معروف زمانہ عامر شاہ خان نیازی موجود ہیں جو ہم پر ہتک عزت کا کیس کرنا چاہتے تھے۔۔۔تاشی بھی اسی تگڑم کا ایک حصہ رہے ہیں جن پر مبینہ طور عمران اسلم کی وجہ سے جیو میں ہلکا ہاتھ رکھا جاتا رہا ہے۔ شیراز کی موجودگی نے نیکسس تو پورا کردیا بس کمی سردار کی تھی جو کہیں اور ہیں۔یہ ڈرامہ یو ٹیوب پر خاصا دیکھا جا رہا ہے یہ ہم نے اس کے ویوز دیکھ کر اندازہ لگایا ہے مگر اس کی وجہ نا تو کہانی ہے نا ہدایتکاری بلکہ ٹک ٹاک اسٹار ذولقرنین ہے جس کی وجہ سے اسے دیکھا بھی جا رہا ہے۔یہ پروڈکشن الٹی میٹ پروڈکشن کی ہے جس کی ویب سائیٹ بند پڑی لہذا یہ ہے کس کی ہم جان نہیں سکے ورنہ ہوسکتا ہے اور بھی چشم کشا انکشافات ہو جاتے۔ (ذکریا محی الدین)

(مصنف کی تحریر سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کامتفق ہونا ضروری نہیں۔۔ جن لوگوں کے حوالے سے تحریر میں کوئی بات کی گئی ہے اگر وہ اپنا موقف دینا چاہیں تو ہم ضرور اسے بھی شائع کریں گے۔۔علی عمران جونیئر)۔۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں