اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو دیگر آئینی ضمانتوں کو تقویت دیتی ہے۔ آزادی اظہار کو روکنا ، اسے محدود کرنا یا فریڈم آف پریس پر اثر انداز ہونا رجعت پسند ریاستوں کا خاصہ ہے جو آئین کے تحت قائم معاشرے کے لئے ناقابل قبول ہے۔ آزاد پریس کے بغیر معاشرے کے سب سے پسماندہ طبقات کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اشرافیہ غیر محاسب اور زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔ ریاست اور اس کے نمائندوں کو کسی کی آواز کو دبانے ، تنقیدی رپورٹنگ یا اختلاف رائے کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کو تفتیشی افسران کے لئے سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق گائیڈلائنز مرتب کریں ، ایف آئی اے تفتیشی افسران کو کریمنل جرائم کی تفتیش کے لئے وسیع اختیارات دئیے گئے ہیں ، ایف آئی اے افسران یقینی بنائیں کہ ان کی کارروائی بدنیتی پر مبنی یا اختیارات سے متجاوز نہ ہو ، ایف آئی اے کے بے پناہ اختیارات اور اس کا غلط استعمال صحافتی ذمہ داریاں نبھانے والوں سے انتقام کے تاثر کو تقویت دیتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی رانا محمد ارشد نامی کی درخواست پر 13 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ درخواست گزار صحافی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے اور اس کی فیملی کو ہراساں کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محض سوشل میڈیا پر ریاستی افسران پر تنقید کرنے پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سائل کو ہراساں کر رہا ہے۔ درخواست کی سماعت کے دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت میں تحریری رپورٹ پیش کی اور موقف اپنایا کہ وہ صرف درخواست گزار کے گھر ایڈریس کی تصدیق کے لئے گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے درخواست گزار صحافی کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کئے اور نہ ہی انوسٹی گیشن کے دوران سائل کے خلاف کوئی مواد اکٹھا کر سکا۔ عدالت نے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے صحافی کو جاری کئے گئے نوٹس میں طلبی کی وجہ بھی نہیں لکھی اور نہ ہی اس پر تاریخ درج ہے۔ عدالت کے استفسار پر ایف آئی اے تفتیشی افسر نے وضاحت کی کہ درخواست گزار صحافی کو شکایت میں درج موبائل نمبر اس کے نام رجسٹرڈ تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ایف آئی اے تفتیشی افسر درخواست گزار صحافی کو طلب کرنے اور تاریخ کے بغیر نوٹس جاری کرنے کی وضاحت نہیں کر سکا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آزاد اور پیشہ ور صحافی کی خبریں ہمیشہ تنقیدی ہوتی ہیں یا ریاستی ادارے اور ارباب اختیار انہیں تنقیدی سمجھتے ہیں۔ عوام کو معلومات پہنچانے والے رپورٹر کو ایسا خوف یا خدشہ ناقابل برداشت ہے۔ اظہار رائے کی آزادی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو دیگر آئینی ضمانتوں کو تقویت دیتی ہے۔

