صحافی برادری کو بلا تفریق احتجاج میں شرکت کی دعوت

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کراچی کی صحافی برادری کو بلا کسی تفریق دعوت دی ہے کہ وہ 11 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں اور اپنے حقوق کی جدوجہد میں اٹھنے والی آواز میں اپنی آواز ملائیں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ہاوسز سے جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی یا تاخیر سے ادائیگی، ویج ایوارڈ کے نفاذ میں تاخیر، میڈیا پر دباو اور صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات سمیت جن مسائل پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے احتجاج کی کال دی ہے یہ پوری صحافی برادری کے مسائل ہیں انہیں باہمی اتحاد اور اتفاق سے ہی حل کیا جاسکتا ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دیگر مزدور تنظیموں، ڈاکٹرز، وکلا اور سول سوسائٹی کو بھی دی ہے جبکہ مختلف میڈیا ہاوسز کی سی بی ایز سے بھی ملاقاتیں کی ہیں کے یو جے کے وفد نے منگل کو جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کی سربراہی میں جنگ ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری شکیل یامین کانگا، دی نیوز ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری دارا ظفر اور جاوید پریس ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری رانا یوسف سے ملاقات کی اور انہیں احتجاج میں شرکت کی دعوت دی کے یو جے کے وفد میں نائب صدر جاوید قریشی، سینئر جوائنٹ سیکریٹری غلام قادر ضیا، جوائنٹ سیکریٹری یونس آفریدی اور رکن مجلس عاملہ میاں طارق شامل تھے۔ ملاقات میں تینوں اداروں کی سی بی ایز کے جنرل سیکریٹریز کی جانب سےکے یو جے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی اس موقع پراس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صحافیوں کے حقوق کے حصول، آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کیلئے جہاں سے بھی آواز اٹھے گی اس پر لبیک کہا جائے گا اس موقع پر جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کی 8 ماہ بعد ضمانت پر رہائی کے حکم پر ایک دوسرے کو مٹھائی بھی کھلائی گئی۔ ایک الگ ملاقات کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی کی سربراہی میں ڈان اخبار کی ہیرالڈ ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری رشاد محمود سے بھی سی بی اے کے دفتر میں کی گئی جس میں جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سینئر جوائنٹ سیکریٹری غلام قادر ضیا اور ارکان مجلس عاملہ سمیرا ججا، ایم اظہر اور ہیرالڈ ورکرز یونین کے جوائنٹ سیکریٹری غلام فرید بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر کے یو جے نے روزنامہ ڈان سے جبری برطرفیوں اور آٹھویں ویج ایوارڈ پر عملدرآمد میں غیرضروری تاخیر کی شدید مذمت کی اور ہیرالڈ یونین کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا وفد نے ہیرالڈ یونین کو بھی 11 نومبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔ ہیرالڈ یونین کی جانب سے احتجاج میں شرکت کی یقین دہانی کرائی گئی۔دریں اثنا میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم اور تاخیر سے ادائیگی، ویج ایوارڈ کے نفاذ، میڈیا پر ان دیکھے دباو اور صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر 11 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر  احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے وفد نے  مختلف میڈیا ہاؤسز کا دورہ کیا جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کی سربراہی میں وفد نے چینل 24کے آفس کا دورہ کیا اور چینل کی 70 روز سے غیر قانونی بندش کے خلاف ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وفد میں نائب صدر جاوید قریشی، سینئر جوائنٹ سیکریٹری غلام قادر ضیا جوائنٹ سیکریٹری یونس آفریدی اور رکن مجلس عاملہ میاں طارق شامل تھے اس موقع پر چینل 24 کے ملازمین سے بات کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے کہا کہ چینل 24 کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت میں تنقید برداشت کرنے کا ذرا بھی حوصلہ نہیں ہے حکومت کا یہ اقدام آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس چینل 24 کے ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی کے یو جے کے وفد نے چینل 24 کے ملازمین کو 11 نومبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جس پر تمام ملازمین نے احتجاج میں بھرپور شرکت  کا یقین دلایا وفد نے روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ قومی اخبار کا بھی دورہ کیا اور دونوں اداروں کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کیا دونوں اداروں میں ملازمین کئی کئی ماہ سے تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی کے مسئلے کا شکار ہیں وفد نے انہیں یقین دلایا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور 11 نومبر کا احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے میڈیا ورکرز متحد ہو کر ہی اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں