bol news ke jabri bartaraf mulazimeen ki bahali ka mutaalba

پیمرا کے خلاف بول کی درخواست مسترد۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جنگ جیو گروپ کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ مہم روکنے کے پیمرا کے حکم نامے کیخلاف بول چینل کی  کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پیمرا کا حکم نامہ برقرار رہنے کی صورت میں درخواست گزار چینل کو کوئی ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچتا ، اگر پیمرا کا حکم نامہ معطل کر دیا جائے تو نجی ٹی وی چینل جنگ جیو گروپ کیخلاف ان الزامات کو دوبارہ نشر کر سکتا ہے جن پر کسی عدالت ، ٹربیونل یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی جانب سے کوئی فیصلہ آیا اور نہ ہی ان الزامات کی تحقیقات یا تصدیق ہوئی۔ واضح رہے کہ 29 اپریل سے یکم مئی 2020 کے دوران میر شکیل الرحمن اور میر ابراہیم کیخلاف مسلسل پروپیگنڈا مہم چلانے پر انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمن ، میر ابراہیم رحمن اور میر اسحاق رحمن نے میسرز لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چینل کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی۔ درخواست کے مطابق جعلی ڈگری گروپ کے نجی ٹی وی چینل نے مسلسل تین روز تک توہین مذہب کے معاملے پر میر شکیل الرحمن کے وارنٹ گرفتاری کی ہیڈ لائنز چلائیں جو الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین پیمرا کو چار شکایات بھجوائی گئیں۔ عوام کو تشدد پر ابھارنے کی مہم چلانے سے درخواست گزاروں اور ملازمین کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ کمپنی کے مالک نے بدنام زمانہ جعلی ڈگری کیس میں اپنے حق میں فیصلہ لینے کیلئے جج کو رشوت دی۔ بعد میں جج پرویز القادر میمن نے ہائی کورٹ کی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے سامنے رشوت لینے کا اعتراف بھی کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 3 جولائی 2020ءکو پیمرا کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 10 جولائی تک ملتوی کی جس پر پیمرا نے 8 جولائی 2020 کو مذکورہ نجی ٹی وی چینل پر جنگ گروپ اور اس کی مینجمنٹ کیخلاف جھوٹے، من گھڑت الزامات نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ پیمرا کے 8 جولائی کے آرڈر میں نجی ٹی وی چینل سے کہا گیا کہ آرڈر کی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈی نینس کی سیکشن 30، 29 اور 33 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پیمرا نے کہا یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ٹی وی چینل نے جان بوجھ کر نفرت انگیز مواد نشر کیا جو کسی بھی شخص یا اس کے خاندان کی زندگی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز براڈ کاسٹ میڈیا سہیل آصف علی خان نے چیئرمین پیمرا کی منظوری سے آرڈر جاری کیا جس میں نجی ٹی وی چینل پر جیو ، جنگ گروپ اور اس کی مینجمنٹ کیخلاف جھوٹے ، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنے پر پابندی لگائی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے ، پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ ، شکایت اور ٹی وی چینل کے لائسنس کے حصول کی شرائط کو بھی آرڈر کا حصہ بنایا گیا۔ 8 جولائی کو پیمرا کی طرف سے جاری کئے گئے آرڈر کے مطابق انڈی پینڈنٹ میڈیا کارپوریشن کی جانب سے 9 مئی، 12 مئی اور 15 مئی کو تین شکایات موصول ہوئیں۔ شکایات کے مطابق نجی ٹی وی چینل نے جیو کیخلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزمات بار بار خبروں اور ہیڈ لائنز میں چلائے۔ تینوں شکایات اور ان کے ساتھ سی ڈیز ٹی وی چینل کو بھجوائیں جو انہوں نے وصول کرنے سے انکار کیا۔ 30 جون کو یہ شکایات اور سی ڈیز کراچی کے ریجنل آفس میں ڈیلور کرائی گئیں جس پر تاحال کوئی جواب یا رد عمل جمع نہیں کرایا گیا۔ جیو جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کیخلاف نفرت انگیز الزامات چلائے گئے ، میر شکیل الرحمن کو میڈیا فرعون پکار کر توہین رسالت کا مرتکب بھی قرار دیا گیا ، پیسے لے کر نبی آخرالزماں کے خاندان کیخلاف توہین آمیز پروگرام چلانے کا الزام بھی لگایا گیا۔ پیمرا آرڈر کے مطابق شکایات کو اسلام آباد میں کونسل آف کمپلینٹس کو بھجوایا گیا جو غیر فعال تھی ، کوئی بھی شکایت غیر معینہ مدت کیلئے بغیر سنے نہیں چھوڑی جا سکتی اس لئے پیمرا نے خود مواد کا جائزہ لیا جسے دیکھ کر معلوم ہوا کہ نشر کیا گیا مواد خطرناک ہے جو کسی بھی شخص یا اس کے خاندان کی زندگی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ جنگ گروپ کی مینجمنٹ اور ملازمین کیخلاف چلائے گئے مواد کی تصدیق کیلئے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ براڈ کاسٹرز تشدد ، نفرت اور شرپسندی کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے۔ پیمرا آرڈی نینس کی سیکشن 27 اے کے تحت ایسا مواد نشر نہیں کیا جا سکتا جو عوام میں نفرت ابھارنے کا باعث ہو۔ سیکشن 27 بی کے تحت کسی کو میڈیا کی طاقت کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نفرت انگیز مواد پر مشتمل مواد نشر کیا گیا جس کے نتیجے میں عوام مشتعل ہو کر جان لینے کی حد تک کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں نجی ٹی وی چینل کی طرف سے جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی کئی شکایات موصول ہوئیں جن پر ایکشن لیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے تاہم سپریم کورٹ نے معافی مانگنے پر معاملہ نمٹا دیا تھا۔ پیمرا نے 6 صفحات کے آرڈر میں مزید لکھا کہ نجی ٹی وی چینل نے نفرت انگیز مواد نشر کرنے کیساتھ کبھی کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا اور الزامات پر رد عمل کیلئے جیو گروپ کو کبھی اپنا پلیٹ فارم بھی فراہم نہیں کیا ، سپریم کورٹ نے 2018 کے از خود نوٹس کیس میں پیمرا کو کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں ، پیمرا وقتا فوقتا تمام لائسنس حاصل کرنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کرتا رہتا ہے۔ پیمرا نے اپنے وکیل منور دگل ایڈووکیٹ کے ذریعے 8 جولائی کے آرڈر کی کاپی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی۔ بعد ازاں جعلی ڈگری گروپ کے چینل نے پیمرا کے 8 جولائی کے حکم نامے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو متفرق درخواست کی سماعت کے دوران انڈی پینڈنٹ میڈیا کارپوریشن (جنگ جیو گروپ) کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ میر شکیل الرحمن کو میڈیا فرعون کہا گیا اور توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ، یہ معاملہ نیب کیس کا نہیں بلکہ حساس نوعیت کے الزمات پر زندگیوں کو لاحق خطرات سے متعلق ہے ، اس متعلق پٹیشن دائر کی تھی جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیمرا کو ہدایات جاری کیں۔ درخواست گزار ٹی وی چینل کے وکیل نے کہا کہ وہ پٹیشن تو نمٹائی جا چکی ہے۔ اس پر زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ پٹیشن اب بھی زیر التوا ہے ، اس میں حتمی آرڈر جاری نہیں ہوا۔ دوران سماعت پیمرا کی جانب سے قیصر امام ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ نجی ٹی وی چینل کو جنگ گروپ کے خلاف الزامات نشر نہ کرنے سے متعلق پیمرا کا 8جولائی کا آرڈر مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری ہوا ، پیمرا آرڈی نینس کے تحت صرف 30 دن میں آرڈر کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے ، نجی ٹی وی کے نشر کئے گئے مواد کو بھی پیمرا آرڈر کا حصہ بنایا گیا ہے ، یہ توہین مذہب اور نفرت انگیز مواد پر مبنی ہے جس پر لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعد ازاں تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میسرز لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کی پیمرا کا 8 جولائی کا حکم نامہ معطل کرنے کی متفرق درخواست خارج کر دی۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں