sahafi ki purasraar humshudgi or bayaan baazi

صحافی کی پراسرارگمشدگی اور  بیان بازی۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی پراسرار گمشدگیاں آزادی صحافت، آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی پر حملہ ہیں۔کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی جانب سے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اس حوالے سے سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کا اولین فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی پراسرار گمشدگیاں آزادی صحافت، آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی پر حملے تصور ہوتے ہیں نیز شہریوں بالخصوص صحافیوں کی پراسرار گمشدگیوں نے پاکستان میں شہری آزادیوں کے متعلق کئی سوال کھڑے کیے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے لیے بدنامی کا باعث بھی ہیں۔ دوسری طرف ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کی تنظیم نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور تمام سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ علی عمران کی گمشدگی کا فوری نوٹس لیں ۔تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیے بغیر میڈیا کی آزادی کا حصول ناممکن ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور جنرل سیکریٹری ناصر زیدی نے جیو کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو صحافتی کام میں ریاستی دباؤ کی کوشش قرار دیا ہے۔پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی کو کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج عوام تک پہنچانے کی سزا اور صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ آزادی صحافت کو پابند کرنے کی ریاستی کوشش قرار دیا ہے۔پی ایف یو جے کی قیادت نے سندھ حکومت اور صحافی علی عمران سید کے اغوا میں ملوث افراد اور اداروں کو متنبہ کیا کہ علی عمران سید کو ہر صورت فوری بازیاب کرایا جائے ورنہ پی ایف یو جے ملک بھر کی یو جیز کے ساتھ مل کر پارلیمینٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنا دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ علی عمران سید فوری بازیاب نہ کئے گئے تو پی ایف یو جے ملک میں پیر سے احتجاج کا سلسلہ علی عمران سید کی بحفاظت بازیابی تک جاری رکھے گی۔دونوں رہنماؤں نے تمام صحافتی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ پی ایف یو جے کے آئندہ لائحہ عمل تک ریاستی جبر کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔دوسری طرف راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے جیو کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ سندھ عمران اسماعیل سے ان کی فوری بازیابی کیلئے اقدامات کرنے کو کہا ہے۔آرآئی یوجے کے صدر عامر سجاد اور جنرل سیکرٹری آصف علی بھٹی کاکہنا ہے کہ پولیس قانون نافذ کرنے والے ادارے علی عمران سید کی فوری بازیابی کیلئے اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ علی عمران کا لاپتہ ہونا قابل مذمت اقدام ہے، صحافیوں کے پیشہ ورانہ امور پر انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔آر آئی یو جے کا مزید کہنا تھا کہ علی عمران کی باحفاظت واپسی یقینی نہ بنائی تو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔

کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران ،سیکرٹری ارمان صابر اور دیگر عہدیداروں نے نجی ٹی وی سے منسلک صحافی علی عمران سید کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ صحافی کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ۔ہفتہ کو جاری اعلامیہ میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ حقائق سامنے لانا صحافیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ فرائض کی ادائیگی کو صحافیوں کا جرم بناجارہا ہے ،جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے ۔اس طرح کے ہتھکنڈوں سے صحافیوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ہے ۔ علی عمران سید کی گمشدگی کے حوالے سے تمام پہلوں کا جائزہ لینا ضروری ہے اور حقائق سامنے آنے چاہئیں ۔انہوں نے حکومت سندھ ،آئی جی سندھ ،ڈی جی رینجرز ،کراچی پولیس چیف اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ علی عمران سید کی  گمشدگی  کا نوٹس لیا جائے اور ان کی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ علی عمران سید کی گمشدگی پر از خود نوٹس لیں ۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گزشتہ رات سے اچانک گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدد مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسمعیل سے مطالبہ کیا ہے کہ علی عمران کو جلد ازجلد بازیاب کروانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔کے یو جے دستور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی علی عمران کی گمشدگی کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔کے یو جے دستور کے صدد ریاض احمد ساگر اور سیکرٹری محمد عارف خان نے کہا ہے کہ علی عمران کے اچانک لاپتہ یا اغواء ہونے پر صحافتی برادری میں سخت تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے صحافیوں کے لاپتہ اغواء اور قتل کے نا رکنے والے واقعات ملک میں جمہوریت قانون اور عدلیہ کی بالادستی اور حکمرانی پر بڑا سوالیہ نشان ہے علی عمران کی فوری بحفاظت گھر واپسی تمام اداروں کا بڑا امتحان ہے ۔ کے یو جے دستور کا کہنا ہے کہ علی عمران سید کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر صحافی احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوں اچانک صحافی کا گمشدہ ہو جائے ملکی سیکورٹی کے اداروں کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوال ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں