کراچی میں سیکنڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل نے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے پر ہتک عزت سے متعلق مقدمہ میں نیوز اینکر مبشر لقمان، معروف بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی پر فرد جرم 31 اکتوبر تک موخر کردی ہے، عدالت نے ملزمان پر فرد جرم کے لیے ہفتہ کا دن مقرر کیا تھا تاہم کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی کراچی بار آمد کے سلسلے میں عدالتی امور معطل کرنے کے باعث مقدمہ کی سماعت نہ ہوسکی اور عدالت نے فرد جرم 31 اکتوبر کے لیے موخر کردی ہے، یاد رہے کہ سینئر صحافی رانا عظیم کو اسی مقدمے میں 12 اکتوبر 2019 کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ان کے مقدمے کو علیحدہ کردیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف جے ایس بینک نے پرائیوٹ کمپلینٹ نمبر 1559/2018 دائر کررکھی ہے جس میں ہتک عزت سے متعلق موقف اختیار کیا ہے کہ مبشر لقمان نے جے ایس بینک اور جے ایس بینک کے سابق چیئرمین کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ مہم چلائی اور اس سلسلے میں 15 ،26 مارچ 2018 اور 2 اپریل 2018 کو نجی ٹی وی چینلز پر گمراہ کن پروگرامات کیے گئے جن میں ملزمان نے جے ایس بینک خاص کر گروپ کے سابق چیئرمین کے خلاف بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کیے اور چیئرمین نیب کا نام استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جے ایس بینک اور اس کے سابق چیئرمین کو بدنام کیا بلکہ میڈیا ٹرائل کے ذریعے ان پر الزام کے ساتھ ساتھ انہیں مجرم اور قصوروار بھی ٹھہرادیا، مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے ان الزامات کے سلسلے میں ثبوت پیش نہ کرنے پر پیمرا نے نجی ٹی وی چینل پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جے ایس بینک نے اپنے مقدمہ میں موقف اختیار کیا کہ عقیل کریم ڈھیڈی جو کہ ان کے کاروباری حریف ہیں انہیں بیٹھا کر پروگرام کرنا اور من گھڑت الزامات عائد کرنے کا مقصد جے ایس بینک کی بدنامی کرکے اسے مالی نقصان اور اس کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف تھا، لہذا ملزمان کے خلاف پی پی سی کی زیر دفعہ 499اور دفعہ 120اے زیر دفعہ 34 کو ملا کر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

