وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے دنیا میں پیش کرنے، معیاری مواد کی تیاری، براڈ کاسٹنگ آلات کی درآمد میں سمیت ہر قسم کا ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیارہے، فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی تجاویز وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائیں گی ، پرائم منسٹر اکنامک ریچ آؤٹ انیشیٹو فلمی صنعت کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے کیلئے حائل رکاوٹیں دور کرنے کا فورم ہے ، پاکستانی ڈرامے، فلمیں اور آرٹ ملک کامثبت تشخص اجاگرکرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔وہ جمعرات کو وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام پرائم منسٹر اکنامک ریچ آؤٹ انیشیٹو کے تحت سافٹ پاور کا فروغ اور زرمبادلہ کا حصول کے عنوان سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی، سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن، فلم ایسوسی ایشن ، جنگ میڈیا گروپ ، ایورریڈی پیکچر گروپ ، ایگزبیٹر گروپ ، جی ای ایم گروپ ، اے آر وائے میڈیا گروپ کے عہدیداران ، وزارت خارجہ ، تجارت ، ادبی ورثہ ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شریک تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہیں ،اسی وجہ سے غیر ملکی ڈالر کم ہوتے ہیں اور معیشت بھی دبا ؤ میں آتی ہے ، ڈالر کم ہونے کی وجہ سے بیرونی قرض بڑھتے ہیں ، معاشی سکیورٹی متاثر اور ملکی کے مفادات حاصل نہیں کیے جاسکتے ، معاشی سلامتی میں مثبت تبدیلی کیلئے 8وزارتوں کو اپنے ڈرامے اور فلمیں دنیا تک پہچانے کیلئے ایک جگہ اکٹھا کیا ہے تاکہ فوری طور پر حائل رکاوٹیں دور ہوں اور ہم اپنے اہداف حاصل کرسکیں، ہماری اولین ترجیح ہے کہ فلم انڈسٹری کیلئے مشکلات کو عارضی نہیں ہمیشہ کیلئے حل کیا جائے، سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی نے کہاکہ ہمیں اپنے اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا ،ہم ایسے ڈرامے کیوں بنائیں جہاں رشتے ہی پامال ہوں ، ہمیں ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اپنے اقدارکی پاسداری کرنا ہوگی،وزارت تجارت کے نمائندہ نے شرکا کو بتایا کہ وزارت تجارت سٹریٹجی کامرس فریم ورک تشکیل دے رہا ہے، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نبیل منیب نے کہا کہ پاکستانی فلم اور ڈراموں کو دنیا کے مختلف ممالک کی سکرینوں تک لیکر جانے کیلئے وزارت خارجہ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے ،ایم ڈی سرکار ی ٹی وی عامر منظور نے کہا کہ پی ٹی وی اصلاحاتی ایجنڈے کے عمل سے گذر رہا ہے ، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں امجد نے کہا کہ علاقائی فلمیں بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے،جنگ گروپ کے میر ابراہیم نے کہا کہ 20سال قبل جیو ٹی وی کا آغاز کیا اور آج پہلی دفعہ حکومت اور وزارت اطلاعات کی جانب سے ٹھوس قدم سامنے آیا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، اس سے میڈیا کو مزید وسعت ملے گی، ایورریزی پیکچر کے سی ای او ستاش آنند نے کہا تعمیراتی صنعت کی طرح فلم صنعت کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے،مانڈی والا انٹرٹینمنٹ کے سی ای او ندیم مانڈوی والا نے کہا 2007میں 15سینمائوں کے ساتھ فلم انڈسٹری کی بحالی کاسفر شروع ہوا جو 75سینماگھروں تک پہنچا ، ایگزیبٹر ایسوسی ایشن کے رویز لاشاری نے کہا کہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے اپنے کلچر اور خوبصورت مقامات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،پی بی اے کے جنرل سیکرٹری دریپ قریشی نے کہا فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے، ہر قسم کے ٹیکسز سے فلمی صنعت کو چھوٹ دی جائے،اے آر وائے گروپ کے جگیت سیجا نے کہا کہ ہم نے بالی وڈ اور ہالی وڈ کی بجائے پاکستانی فلموں کو پرموٹ کرنے کیلئے اپنے چینلز پر یہ فلمیں چلائیں،تمام سٹیک ہولڈرز نے مباحثہ میں سیر حاصل گفتگو کے بعد اپنی اپنی تجاویز اور سفارشات وزارت اطلاعات کے سپرد کیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے تمام سٹیک ہولڈرز کو یقینی دہانی کرائی کہ یہ تمام سفارشات اور تجاویز وزیراعظم عمران خان تک پہنچائیں گے۔

