سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے وزارت داخلہ سے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی تھی لیکن وزارت داخلہ نے وہ فوٹیج مہیا نہیں کی جس کے بعدفرحت اللہ بابر نے انفارمیشن کمیشن سے رابطہ کرکے کہا کہ انہیں یہ فوٹیج فراہم کروائی جائے جس پر انفارمیشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جس کاجواب نہیں دیا گیا، انفارمیشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو نوٹس بھیجا کہ اس کا نمائندہ ذاتی طور پر کمیشن کے روبرو پیش ہو لیکن آج بھی وزارت داخلہ کا کوئی نمائندہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا، انفارمیشن کمیشن کے تین رکنی کمیشن کی سماعت چیف کمشنر محمد اعظم کر رہے ہیں ،گذشتہ روز کی سماعت میں وزارت داخلہ کا کوئی نمائندہ پیش نہیں ہوا ، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے ایک قانونی درخواست کو جان بوجھ کر اہمیت نہیں دی اور کمیشن کیتوہین کے مرتکب ہوئے جہاں وزارت داخلہ نے اپنا نمائندہ نہیں بھیجا، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر انہیں فوٹیج مہیا نہیں کی گئی تو درخواست کی حیثیت سے اس کیس کے سرکاری ریکارڈ کے منٹس بھی مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کریں گے۔

