سینٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات کے اجلاس کے دوران چیئرمین کے ریمارکس پر سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن کے واک آئوٹ کے اعلان پر اپوزیشن اراکین بھی نشستوں سے اٹھ گئے، بعد میں شبلی فراز اور فیصل جاوید کی کوششوں سے اپوزیشن ارکان نے واک آئوٹ کا فیصلہ واپس لے لیا اور نشستوں پر چلے گئے ۔ قائمہ کمیٹی اطلاعات کااجلاس چیئرمین فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سرکاری ٹی وی میں گزشتہ ایک سال سے ہونے والی بھرتیوں اور مراعات سے متعلق ایجنڈ ے پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی کی جانب سے بھرتیوں سے متعلق تفصیلات آج کمیٹی کو فراہم کی گئی،چیئرمین نے کہا کہ کمیٹی اجلاس سے دو دن پہلے تمام تفصیلات مہیا کیوں نہیں کی گئی، سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ چیئرمین سرکاری ٹی وی کی تنخواہ، مراعات کے حوالے سے مکمل تفصیلات جاننا چاہتا ہوں، کمیٹی کے ایجنڈے کو سنجیدہ نہ لے کر واضح کر دیا ہے کہ کام سے زیادہ تنخواہیں اور مراعات لی جا رہی ہیں، ایم ڈی نےکہا کہ سرکاری ٹی وی دو سال پہلے تک خسارے میں جا رہا تھا، اب ریٹنگز بہتر ہوئی ہیں ، چیئرمین نے پوچھا کہ پرانے ملازمین کو نکال کر نئے لوگ لے کر آنے سے کیا فرق پڑا ہے ،سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سرکاری ٹی وی قومی ادارہ ہے کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں،سڑکوں پر جن کیلئے پیار کے نعرے لگ رہے ہوتے ان کیخلاف ٹی وی پر پراپیگنڈا کیا جاتا ہے،سرکاری ٹی وی کو اپنا مواد بہتر کرنا چاہیے اور لوگوں کی تربیت کرنی چاہیے ، مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ قائداعظم میرے لیڈر تھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، قائداعظم کی تصویر اگر نوٹ پر نہ ہو تو انہیں شاید کوئی نہ پہچانے ، عطا الرحمٰن نے کہا کہ کسی کی نوکری کیلئے کوئی ضابطہ نہیں جو پی ٹی آئی کا ہے بس وہی ضابطہ ہے، فیصل جاوید کے ٹوکنے پر سینیٹر عطا الرحمن نے احتجاج کیا ، عطاالرحمن کے واک آوٹ کے اعلان پر اپوزیشن اراکین بھی نشستوں سے اٹھ گئے، پرویز رشید نے کہا کہ سرکاری ٹی وی کی دیواروں اور پارلیمنٹ کی دیواروں کو پھلانگتے ہوئے دکھایا گیا، فیصل جاوید نے پرویز رشید کی بات پرکہا کہ عدالتوں میں بھی لوگوں کو پھلانگتے دکھایا جاتا ہے ۔ کمیٹی میں سینٹ کی3 مارچ کی کارروائی کے حذف شدہ الفاظ جنگ و دی نیوز سمیت 14 اخبارات میں چھپنے کا معاملہ زیر غور آیا، سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ اس ادارے نےمخصوص پارٹی کو نشانہ بنانے کی عادت بنالی ہے۔ بار بار یہ کرتے ہیں ، پہلے بھی آگاہ کیاگیا پروا نہیں کرتے،سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ جس جگہ اور جس فونٹ میں خبر لگی تھی اسی جگہ معذرت کو شائع کر دینا چاہیے تھا مگر اس نےپارلیمنٹ کا احترام نہیں کیا ، اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کیا جانا چاہئے۔ جنگ گروپ کےسرمد علی اور طاہر خلیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادارے اور اپنی جانب سے معذرت چاہتے ہیں ، ہمارے علاوہ دیگر تیرہ اخبارات نے بھی یہی حذف الفاظ پر مشتمل خبر چھاپی، اس کیخلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے یا صرف جنگ گروپ کیخلاف کارروائی مقصود ہے ، پرویز رشید نے کہا کہ اس حوالے سے جب جنگ میں اسی صفحے پر معذرت چھاپ دی ہے اور یہاں معذرت کرلی گئی تو پھر کس بات کا تقاضا ہے؟سب انسان ہیں غلطیاں ہوتی ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب سب کچھ بند کردیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ا گر کسی ایک نے غلطی کی ہو تو شک کیا جاسکتاہےکہ کوئی شرارت یا جان بوجھ کر کیاگیا لیکن دیگر اخبارات میں بھی یہی شائع ہوا تو یہ کوئی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا،سرکاری ٹی وی کی نشریات کو ڈیلے مشین لگانے پر اعتراض ہے اور یہ قدغن لگانے کے مترادف ہے، مولا بخش چانڈیو ، پیر صابر شاہ ، روبینہ خالد نے کہا کہ ادارہ نے جب معافی مانگ لی ہے ، معذرت چھاپ دی ہے تو معاف کردینا چاہئے اگر پھر بھی معافی نہیں دینی تو پھر تمام چودہ اخبارات بند کردیں ، سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ تمام سینیٹر صاحبان نے بھی کہہ دیا ہے میں سمجھتا ہوں اگر نیوز میں بھی معذرت چھاپ دیں تو معاملہ ختم کردوں گا ، چیئرمین فیصل جاوید نے کہا کہ تمام کمیٹی ممبران کا اتفاق ہے کہ معذرت کےبعد اس معاملے کو ختم کردیا جائے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ میری ذات کا معاملہ نہیں، میں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے معاملہ اٹھایا ،حذف شدہ الفاظ کو کس صورت شائع نہیں ہونا چاہئے ، جیسے آپ نے جنگ میں معذرت چھاپی ، نیوز اخبار میں بھی اسی طرح سے شائع کریں ، چیئرمین نے ہدایت کی کہ وزارت اطلاعات دیگراخبارات میں چھپنے والی اسی نوعیت کی خبروں کو جو الفاظ حذف شدہ پر مشتمل ہو پیش کرے ،کمیٹی نےپارلیمنٹ کی کارروائی کے حذف شدہ الفاظ شائع کرنے کیخلاف نعمان وزیر کا اٹھایا جانے والا معاملہ حل کردیا، معافی مانگنے اور قبول کرنے کےبعد معاملہ ختم ہو گیا، پرویز رشید نے نوازشریف کی تقاریر پر پیمرا کی پابندی کا معاملہ اٹھاتےہوئے کہا کہ ماضی میں طاہر القادری کی تقریروں پر بھی پابندی نہیں لگائی گئی ، اب کس بنیاد پر پابندی لگائی گئی ہے؟ اس پر کمیٹی کا جلد اجلاس بلا یا جائے اور پیمرا کو بلاکر پوچھا جائے کہ کیوں پابندی لگائی گئی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پیمرا کو کمیٹی میں بلاکر متن کے تناظر میں بات ہوگی کہ پابندی کیوں لگائی گئی۔
جنگ،نیوز سمیت 14 اخبارات بند ہونے سے بچ گئے۔۔
Facebook Comments
