تحریر: شکیل بازغ۔۔
جو کچھ سیکھا وہ ان لوگوں کو سکھا رہاہوں جنہیں یہ تڑپ ہے کہ ہم بھی کرسکتے ہیں اوراسکرین پر خبریں پڑھ سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جنکا یہ جنون بے قابو کی حد تک پہنچ چکا انہیں سنبھل کرچلنا سکھانا ضروری تھا۔ افسوس کہ ایسی کوئی اکیڈمی تھی ہی نہیں کہ جہاں لوگ سیکھتے،ٹریننگ ہوتی اور جاکر اپنے کریئر کا بہترین سے آغاز کرتے۔ مقصد یہی تھا۔ کہ جب آپ(خصوصاً لڑکیاں)تعلیم کے دوران یا فوراً بعد آن ایئر ہونے کے قابل ہی نہیں تو لوگ آپکی آنکھوں پر جنون کی پٹی دیکھ کر کسی مہربان کے بھیس میں آپکے گرد جال بُنتے ہیں۔ پھر یا آپ اپنے خوابوں کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔ یا پھر اپنی عصمت کی چادر اتار پھینکتے ہیں۔ یہاں تک کہ میڈیا ایجوکیشن میں ایم فِل کرلیا تب بھی چونکہ زمینی حقائق پر مبنی تربیت لینا ضروری ہے سکرین کے اپنے معیارات و تقاضے ہیں جنہیں جاننا ضروری ہے۔ اسکی مشق ضروری ہے۔ تربیت نہ ہونے کی صورت میں جنون کی پیروی میں یوں بھی ہوجاتی ہیں کہ ڈگریاں سائیڈ ٹیبل پر دھری رہ جاتی ہیں اور سفر کا آغاز ٹیلنٹ کے بجائے بستر کی سلوٹوں سے ہوتا ہے۔ یہ انکے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے مقصد کے حصول کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کو عام واقعہ یا اس فیلڈ کا تقاضا سمجھ لیتے ہیں۔ میڈیا میں بستر بالکل بھی معیارِ انتخاب نہیں لیکن چند غیر پیشہ ور لوگ ایسا تاثر دے کر آپ کو اسی پر قائل کر لیتے ہیں. ایسا نہ ہو کسی کے ساتھ نہ ہو۔ پیشہ ورانہ تربیت وہ بھی عرق ریزی سے لینا ضروری ہے۔ جہاں چاہ وہاں راہ۔ تھوڑا صبر کریں محنت کریں۔ وقت کا انتظار کریں۔ عجلت میں اپنی خودی غیرت عصمت مقام سے دستبردار نہ ہوں۔ میڈیا اچھوں کیلئے بُرا نہیں۔ لیکن یہاں شکر خوروں کیلئے اگر آپ شکر نہ بنیں تو وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میں نے بیسیوں لوگ محنت اور شرافت سے اوپر آتے نام بناتے دیکھے ہیں۔
یاد رکھیں۔ اینکر پرسن بن جانا اتنا بڑا مقام نہیں۔ کہ اس کے لیئے اپنی چادر میں چھید اور داغ لیئے جائیں. سیکھیں اوراپنے خواب پورے کریں۔۔ (شکیل بازغ)۔۔

