pfuj media malikaan ki tarjumaan

پی ایف یو جے میڈیا مالکان کی ترجمان؟؟

تحریر: شمعون عرشمان۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کو عامل صحافیوں یا ورکنگ جرنلٹس کی نمائندہ تنظیم کہاجاتا ہے، یہ کب بنی، اس کے اغراض و مقاصد کیا تھے؟؟ یہ صرف اب کاغذات پر ہی اچھے لگتے ہیں، عملی طور پر دیکھا جائے تو لگتا ایسا ہے کہ یہ تنظیم میڈیا مالکان کی بھرپور ترجمانی میں پیش پیش ہے۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس بھی تین ہیں۔۔ ایک دستور گروپ ہے۔۔ جب کہ برنا گروپ کی دو ہیں، برنا گروپ کی دو میں سے ایک رانا عظیم گروپ اور دوسرا افضل بٹ گروپ کہلاتا ہے۔۔ ہم یہاں اس پی ایف یوجے کی بات کررہے ہیں جس کا تین روزہ اجلاس کوئٹہ میں ہوا۔۔ اور جب اس کا اعلامیہ جاری ہوا تو عام صحافی سرپکڑ کر بیٹھ گیا کہ اس میں کہیں بھی سیلری کٹ، برطرفیوں، چھانٹیوں، تنخواہوں میں تاخیر اور دیگر ایسے درجنوں مسائل پر اعلامیہ میں کہیں بھی ایک جملہ میڈیا مالکان کے خلاف نہیں کہاگیا، مذمت تو دور کی بات، یہ معاملات اعلامیہ میں شامل ہی نہیں کئے گئے۔۔ یعنی یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ عام صحافی کو درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔۔ ملک بھر سے صحافیوں کی چھوٹی بڑی تنظیموں کے نمائندے صرف میڈیا مالکان کو پہنچنے والی تکالیف پر ماتم کرنے اور حکومت وقت پر تبرا بھیجنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔۔ چلئے اب پی ایف یوجے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے اعلامیہ کا پوسٹ مارٹم بھی کرلیتے ہیں۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے ملک میں آزادی اظہار اور پریس کی آزادی پر مکمل پابندی اور میر شکیل الرحمن کی کئی سال پرانے کیس میں گرفتاری پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔۔ (آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کی آپ کے نزدیک تشریح کیا ہے؟ جہاں آپ کی ناک شروع ہوتی ہے کیا وہ آزادی ہے؟؟ جہاں تک آپ چاہتے ہیں کیا وہ آزادی ہیں؟؟ بھیاجی اگر آزادی نہیں ہے آپ لوگوں کو تو سارے چینلز اور اخبارات بند کرکے شدید احتجاج کیوں نہیں کرتے؟؟ پوری دنیا آپ کی بات سنے گی، ڈرامے بازیاں بند کریں، آزادی کے نام پر عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایاجاسکتا؟ میر شکیل صاحب پر کئی سال پرانا کیس آپ خود لکھ رہے ہیں، کیس جتنا پرانا ہو کیا اس میں گرفتاری ڈالنا غیرقانونی ہے؟؟ )

پی ایف یو جے نے کہا ہے کہ حکومت اپنی میڈیا دشمن پالیسی فوری ترک کرے، حکمران پارٹی اپنے منشور کے مطابق میڈیا کی آزادی کی ٹھوس ضمانت دے، ملک میں پی ٹی آئی کے برسراقتدار آنے کے بعد میڈیا اوراظہار رائے کی آزادی پر پابندی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ میڈیا دشمن طاقتیں آزادی اظہار کے خاتمے اور میڈیا ہائوسز کو سرکاری لائن پرچلنے پرمجبور کر رہی ہیں،دوسری صورت میں انہیں غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، یہ مطالبہ و تشویش کا اظہار پی ایف یو جے کی ایف ای سی نے اپنے اجلاس کے اختتام پرجاری اعلامیہ میں کیا۔۔۔ (میڈیا دشمن پالیسی کیا ہے؟؟ حکومت اگر اشتہار نہیں دے رہی تو کیا اسے میڈیا دشمن پالیسی سمجھا جائے گا؟؟ میڈیا کی ٹھوس آزادی کسے کہتے ہیں؟؟ پی ٹی آئی کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ ضرور ہوا کہ میڈیا مالکان کی عیاشیوں کے لئے ملنا والا پیسہ بند ہوگیا۔۔ بڑے بڑے نامی گرامی صحافیوں کے لفافے بند ہوگئے۔۔دانش وڑوں کو اوقات میں رکھا گیا۔۔اگر ان سب کو انتہا کہہ رہے ہیں تو عوام اب سمجھ دار ہیں انہیں پتہ ہے میڈیا والے کیا کرتے رہے ہیں اور میڈیا والے چاہتے کیا ہیں۔۔میڈیا ہاؤسز کو کون سی سرکاری لائن پر چلنے پر مجبور کیا جارہا ہے؟؟ اور آپ لوگ کیا واقعی اتنے مجبور، معذور اور کمزور ہیں کہ سرکاری لائن پر چلے بغیر آپ لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہیں؟؟ میڈیا دشمن طاقتیں آپ کسے کہہ رہے ہیں؟؟ اگر حکومت میڈیا دشمن طاقت ہے تو پھر آپ بار بار اس کی گود میں بیٹھنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ )

یہ اجلاس پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار کی زیر صدارت کوئٹہ میں ہوا۔ جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ایف ای سی ارکان کے علاوہ ملک بھر سے جرنلسٹس یونین کے صدراور سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کی میزبانی بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے کی۔ اجلاس پی ایف یو جے کے جنرل سیکرٹری ناصرزیدی نے میڈیا انڈسٹری پر پابندیوں پر غور کیلئے طلب کیا تھا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آزاد میڈیا کی آواز دبانے کیلئے غیراعلانیہ سنسر شپ، مالکان کو ٹیلیفون پر دھمکیاں و مالی مشکلات پیدا کرنے اور صحافیوں کے اغوا جیسے تمام حربے استعمال کئے جارہے ہیں، ( غیر اعلانیہ سنسرشپ، مالکان کو فون پر دھمکیاں، مالی مشکلات پیدا کرنے، یہ تینوں باتیں میڈیا مالکان کے حق میں کی گئیں، صحافیوں کے اغوا کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔۔ غیراعلانیہ سنسرشپ کی جب بات کریں تو ضیادور میں اعلانیہ سنسرشپ تھا، کیا اس وقت میڈیا نے مطلق العنان آمر کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کیا تھا؟؟ بھائی جی اب تو آمریت نہیں جمہوریت ہے، عدلیہ آزاد ہے، سوشل میڈیا بہت زیادہ طاقت ور ہے، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا آپ کے ہاتھ میں ہے اس غیراعلانیہ سنسرشپ کی دھجیاں کیوں نہیں اڑادیتے؟؟  مالکان کو فون پر دھمکیاں کون دیتا ہے کچھ اس حوالے سے افشا کرنا تھا؟ اور عام صحافی کے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہوگا کہ اگر مالکان کو فون پر دھمکی ملتی ہے تو پی ایف یوجے کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتا ہے؟؟ مالی مشکلات تو آپ کو نظر آرہی ہے کیا کبھی آپ نے میڈیا مالکان سے پچھلے پانچ یا دس سال کا آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے؟ اسے کتنا نقصان ہوا؟ کیسے وہ ایک چینل سے دو،دو سے تین چینل کھول بیٹھا، کیسے ایک اخبار سے دو، دو سے تین بنالئے؟ میڈیا مالک سے کبھی یہ سوال کیا کہ اس کے دیگر کاروبار تو بھرپور نفع دے رہے ہیں پھر میڈیا میں وہ نقصان کا رونا کیوں رونے لگ جاتا ہے؟؟)

پی ایف یوجے کے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ موجودہ حکومت نے میڈیا انڈسٹری کے مالی وسائل پر کٹ لگانے کیلئے میڈیا ہاؤسز کے واجبات پرسوال اٹھانے شروع کئے اور ان کے واجبات کی ادائیگی روک دی جبکہ میڈیا مالکان نے اسکے جواب میں وسیع پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی شروع کردی، کئی اخبارات کے ایڈیشن بند کردیئے اور مہینوں کے حساب سے ملازمین کی تنخواہوں پر کٹوتی اور ادائیگی میں تاخیر کرنا شروع کردی۔ ( یہاں بھی میڈیا ہاؤسز کی پیٹھ ٹھونکی گئی ہے، حکومت کو رگڑا گیا ہے، اگر حکومت واجبات کی ادائیگی نہ روکتی تو نہ چھانٹیاں ہوتی، نہ اخبارات بند ہوتے، نہ سیلری کٹ لگتا اور سیلری تاخیر سے ملتی۔۔۔ بہت اعلا جناب والا۔۔ مطلب میڈیا مالکان دودھ کے دھلے ہوئے ہیں، صحافیوں پر جو بھی برا وقت آیا یہ سب حکومت کا کیا دھرا ہے، اخبارات کے ایڈیشن کیوں بند ہوئے؟ کبھی اس پر ریسرچ کرلینا، یہ واجبات کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اشتہارات کے حوالے سے جعلسازی تھی، دوسری بات جو اسٹیشن بند ہوئے کیا وہاں اب اخبار شائع نہیں ہورہا؟؟ اس پر بھی تحقیق کی دعوت ہے۔۔ کیا کراچی کا خبریں لاہور میں تیار نہیں ہورہا؟؟ کیا ملتان کا جنگ لاہور میں تیار نہیں ہورہا؟؟ ایسی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر جب آپ کو مالکان کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا تو پھر حکومت ہی ظالم ٹھہرے گی)۔۔

اعلامئے کے مطابق مالی پابندیوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے میڈیا کی مائیکرو منیجنگ شروع کردی اور میڈیا کو کھلم کھلا اور خفیہ کالزکے ذریعے ہدایات جاری کرنا شروع کردیں اور میڈیا کا بازو مروڑنے کیلئے گائیڈ لائنز کی فہرست میں بھی اضافہ کردیااور میڈیا کو سلف سنسر شپ پر مجبور کردیا جس کی نظیرماضی میں نہیں ملتی۔ ( عدالتوں کا رخ کیوں نہیں کرتے؟ جب اتنی ناانصافی ہورہی ہے، ظلم کا شکار ہیں تو پھر عدالت کا رخ کریں، جب چینل بند ہوتا ہے تو ریلیف کہاں سے لیتے ہیں؟؟ مسئلہ یہ ہے کہ عدالتوں میں ثابت کرنا پڑے گا آپ لوگوں کو کہ میڈیا کی مائیکرو منیجنگ ہورہی ہے، بازو مروڑا جارہا ہے، خفیہ کالز کی جارہی ہیں، گائیڈ لائنز کی فہرست بڑھا دی۔۔ پاکستانی آئین و قانون کے مطابق جب کسی پر کوئی الزام لگاتا ہے تو اسے ثابت بھی کرتا ہے، ورنہ الزام لگانے والے کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے، آپ عدالت جائیں، یہ سب باتیں وہ ثابت کریں آپ کو ریلیف کیوں نہیں ملے گا)

 پی ایف یو جے کا یہ اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قائم تحریک انصاف کی حکومت کو براہ راست میڈیا پر قدغن اور موجودہ بحران کا ذمہ دار سمجھتا ہے اور ایف ای سی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی میڈیا دشمن پالیسی کو فوری طور پر ترک کرے اور میڈیا انڈسٹری کے نمائندوں پی ایف یو جے،سی پی این ای،اے پی این ایس،پی بی اے اورسول سوسائٹی جس میں ایچ آرسی پی اورپی بی سی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات پر قابل فہم بات چیت اور سمجھوتہ کرے۔۔( یعنی حکومت میڈیا مالکان اور میڈیا کے سیٹھوں سے بات چیت کرے، سمجھوتہ کرے، پی ایف یوجے یہ مشورہ حکومت کو دے رہی ہے۔۔ میڈیا مالکان ظلم کا شکار ہیں، حکومت ظالم ہے، لہذا حکومت کو چاہیئے کہ اب میڈیا مالکان کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔۔ماضی کی طرح ان پر خزانوں کے منہ کھول دے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔ سی پی این ای، اے پی این ایس، پی بی اے یہ تمام میڈیا کے سیٹھوں کی تنظیمیں ہیں اور پی ایف یوجے چاہتی ہے کہ حکومت ان سے سمجھوتہ کرلے۔۔ بہت اعلا حضور والا۔۔)

ایف ای سی کا اجلاس مختلف ٹی وی چینلز سے وابستہ خواتین صحافیوں کونامعلوم ٹرولنگ گروپ کی طرف سے ہراساں کرنے اور ٹرولنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بھی سختی سے مذمت کرتا ہے۔۔( ٹرولنگ سے متعلق ہراساں ہونے والی خواتین صحافیوں کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اس میں ملوث ہے۔۔ مذمت ضرور ہونی چاہیئے، بہن بیٹیاں مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔ )

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ پیمرا کی طرف سے جاری میڈیا ایڈوائس فوری طور پر واپس لی جائیں، صحافیوں اور میڈیا ہائوسزپرحملے بند کئے جائیں۔ یہ اجلاس مشکوک ریڈیو اسٹیشن اور ٹیلی وژن چینلز کوشروع کرنے کی بھی مذمت کرتا ہے۔( مشکوک ریڈیو اور ٹی وی چینلز کا نام تو بتاتے؟؟ پی بی اے تو بول نیوز کو ہی مشکوک چینل کا نام دیتی رہی ہے؟ یا پی ایف یوجے کے نزدیک مشکوک کی تشریح کچھ اور ہے؟؟)

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مہنگائی کو مد نظررکھتے ہوئے اشتہارات کے ریٹ کو معقول بنایا جائے،حکومت وزارت اطلاعات پر واجب الادا 6ارب روپے کی ادائیگی کو بھی یقینی بنائے تاکہ میڈیا انڈسٹری اور صحافی برادری کے مالی مسائل دور ہوسکیں اور کارکنوں کی چھانٹی، میڈیا ہاوسنز کی بندش اور تنخواہوں کی تاخیر سے بچ سکیں۔ ( یہاں بھی میڈیا کے سیٹھوں کے فائدے کی بات کی گئی ہے، اس مطالبے میں اشتہارات کے ریٹ معقول بنانے کی بات کی گئی یعنی سیٹھ کو فائدہ۔۔ چھ ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی یہ بھی سیٹھ کے حق میں ۔۔ساتھ ہی صحافیوں کو وارننگ بھی دے دی کہ یہ سب کچھ ہوگا تو آپ کی چھانٹی اور تنخواہوں میں تاخیر کے معاملے ختم ہوسکیں گے۔۔)

میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب، عمران جونیئر ڈاٹ کام کے ذریعے میں صحافت کے تمام اساتذہ، جید صحافی حضرات اور سینئر صحافیوں سے گزارش کروں گا کہ پی ایف یوجے کے اعلامیہ سے کوئی ایک جملہ بتادیں جس میں میڈیا مالکان کی طبیعت صاف کی گئی ہو، ان سے کوئی مطالبہ کیا گیا ہو، ان کی کہیں مذمت کی گئی ہو، چھانٹیوں، سیلری کٹ، سیلری میں تاخیر کے شکار صحافیوں کی اشک شوئی کی گئی ہو؟؟ یہاں تو کہانی ہی الٹی ہے، صحافیوں کی نمائندہ تنظیم اپنے اراکین صحافیوں کو بتارہی ہے کہ اگر میڈیا مالکان کو حکومت نے پیسے نہیں دیئے تو پھر ککھ نہیں ملنا، حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ حکومت ہے،پی ایف یوجے کے اعلامیہ سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ  میڈیا مالک تو دودھ کے دھلے ہیں، حاجی ثنااللہ ہیں۔۔ ان سے اچھا تو کوئی ہے ہی نہیں۔۔ فرشتہ صفت، نیک سیرت میڈیا مالکان اپنے دامن نچوڑتے ہیں تو فرشتے وضو کرتے ہیں۔۔

اگر آپ کی نظروں سے یہ تحریر گزرتی ہے تو براہ مہربانی اسے آگے ضرور شیئر کیجئے گا تاکہ ایسے لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوسکیں جو صحافیوں کے کاندھوں پر لیڈر بن کر میڈیا مالکان کی جنگ لڑتے ہیں۔۔ (شمعون عرشمان)۔۔

 (اس تحریر اور مصنف کے خیالات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔علی عمران جونیئر)۔۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں