Tahir A Khan zara kuch tawajja please

طاہر اے خان  صاحب ۔۔ ذراکچھ توجہ پلیز۔۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

انٹر فلو، کنٹیکٹ پلس اور نیوز ون کا عملہ ان دنوں سخت مسائل میں گھرا ہوا ہے کیونکہ کئی ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے اور اس کی اک وجہ جہاں میڈیا پہ آیا بحران ہے وہاں اس کی ایک اور وجہ ان اداروں کے مالک طاہر اے خان کی شب و روز بڑھتی ہوئی بے تحاشا مصروفیات بھی ہیں کیونکہ وہ عمران خان کے میڈیائی رفیقوں میں ہیں اور گزشتہ برس ان کے ایک نیوزچینل پر ہونے والی  ایک بڑی غلطی اور اس سے برآمد ہوئی افتاد اوربحران کے باوجود ابھی تک ان پہ عمران خان کا بھروسہ کافی حد تک برقرار ہے اور اسی سبب اونچے ایوانوں میں انکی آمد و رفت اور رابطے بدستورہیں ۔ اپنی شدید مصروفیات کے سبب طاہر صاحب اپنے اداروں کے معاملات اس طرح مناسب اندازمیں نہیں دیکھ پارہے کہ جس طرح انہیں بطورسربراہ دیکھنا چاہیئے- انکی اس عدم توجہی کے باعث ان اداروں میں بروقت اوردرست اقدامات بھی نہیں ہوپارہے، جس کی وجہ سے ان اداروں میں عجب افراتفری سی مچی ہوئی ہے اور کچھ “چھوٹے” بھی بہت “بڑے “بن گئے ہیں جو   مسلسل غلط فیصلے اور اقدامات کئے جارہے ہیں اور اگراس سلسلے کو اب  نہ روکا گیا تویہ ابتری کسی بہت بڑے بگاڑ اور ابتلاء کا باعث بھی بن سکتی ہے اور اس مد میں کی گئی تاخیر اداروں کو ناقبل تلافی نقصان بھی پہنچاسکتی ہے۔۔

اس گھمبیر صورتحال کی اک بڑی مثال انٹرفلو کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ “کنٹیکٹ پلس” بھی ہے کہ جہاں سی او کی طرف سے نہایت محنت اور لگن سے کام کرنے والے ایک اہم افسر (ب ) کو اک ایسا کام کرنے سے انکار پہ نہایت ذلت آمیز انداز میں آناً فاناً فارغ کردیا گیا  کہ جو کام انکے دائرہ عمل میں بالکل بھی نہیں تھا ۔۔پپو کے مطابق اچانک فارغ ہونے والے اہم افسر نے سی او سے کئی بار معافی بھی مانگ لی اور  ادارے کے متعدد ملازمین نے درگزر کی کوششیں بھی کیں لیکن  سی ایف او کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوئی ۔۔افسر کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے دیگر ملازمین بھی شدید مایوسی اور بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ سب کا مورال ڈاؤن ہے کیوں کہ سی او سے زیادہ وہ افسر ادارے میں مقبول تھے اور ورکرز دوست شمار ہوتے ہیں۔ پپو کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں اب طاہر اے خان صاحب  کو خود دلچسپی لینی چاہیئے کیونکہ وہ بہترین قؤت فیصلہ کے حامل ہیں اور اب ادارے کے وسیع تر مفاد میں انہیں اپنے ماتحت ادارے کنٹیکٹ پلس کے ایک پرانے وفادار اورذمہ دار افسر کے ساتھ روا رکھے گئے اس برے سلوک کا خاطر خواہ نوٹس لے کر اپنے ادارے بلکہ اپنے زیرنگیں تمام اداروں میں جنم لیتی شدید بے چینی ، مایوسی اور بددلی کو جلد سے جلد اور احسن طور پہ ختم کرنا چاہیئے۔۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں