mir shakeel ka fard jurm se inkaar

میرشکیل کادوران حراست چیک اپ، کینسر کا خدشہ۔۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ، ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کرنے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا 8جولائی 2020کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔۔درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمان  نیند نہ آنے کی بیماری ، سانس کا اکھڑنا، گردوں میں غدود ہونا، مثانے میں گلٹیاں بننا اور ذہنی اضطراب جیسے امراض کا شکار ہیں، ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹوں کے مطابق ان کے گردوں میں بھی تکلیف ہے اور پیشاب میں خون آتا ہے ،جبکہ جوڈیشل قید کے دوران ان کے چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ٹیومر/کینسر ہونے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ انہیں مسلسل قید میں رکھا ہوا ہے جبکہ اسی دوران ان کا ایک بھائی اور ایک بہن بھی کینسر کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں، انہوں نے مزید بیان کیا ہے کہ انکے والدین سمیت خاندان کے 9ممبران میں سے 6کو کینسر تھا، اس لئے انہیں گھر میں رہ کر ڈاکٹروں کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے ،اور بہتر ماحول میں ڈاکٹروں سے علاج معالجہ کروانے کیلئے ان کی رہائی نہایت ضروری ہے، ان کی مسلسل قید سے ان کے ا مراض میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ،جوکہ ان کی بیماریوں کو مزید مہلک کرنے کا سبب بن رہا ہے۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ وہ پچھلے 6ماہ سے مسلسل قید میں ہیں،جس سے انکی بیماریوں میں شدت پیداہو رہی ہے ،اور ان کی صحت کی حالت دن بدن بگڑ رہی ہے ،اور وہ اپنی 94سالہ والدہ کی خدمت کرنے سے بھی محروم ہیں،جو حال ہی میں اپنے دو بچے (بیٹا اور بیٹی )کھو چکی ہیں،ان کی ضمانت بعد از گرفتاری کا مقدمہ انتہائی مشکلات (ہارڈ شپ) کے زمرہ میں آتا ہے ،اور ان کی ضمانت پر رہائی نہایت ضروری ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں