قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے چیئرمین جاوید لطیف نے انکشاف کیا ہے کہ ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے خط و کتابت میں وزارت اور سیکرٹری اطلاعات کی شکایات کرتے ہیں اور سیکرٹری اطلاعات کے ماتحت ہونے کے باوجود ان کی کسی ہدایت پر عمل نہیں کرتے، جاوید لطیف نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی وزیراعظم تک کو جوابدہ نہیں ہیں، ایم ڈی کیسا انوکھا لاڈلا ہے کہ دوہری شہریت اور وزارت اطلاعات کے تحفظات کے باوجود اس اہم عہدے پر تعینات ہے، حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ ایم ڈی پی ٹی وی کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا رہا، جاوید لطیف کی زیر صدارت پیمرا آفس میں قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا ،چیئرمین کمیٹی جاوید لطیف نے کہا کہ سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرایا جس پر ایم ڈی پی ٹی وی نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو شکایت کی کہ پی ٹی وی سے متعلق سوال کا جواب سیکرٹری اطلاعات نے کیوں جمع کرایا، جواب جمع کرانے سے پہلے مجھ سے پوچھ لیا کرے، جاوید لطیف نے سیکرٹری اطلاعات سے استفسار کیا کہ کیا ایم ڈی پی ٹی وی آپ کے ماتحت نہیں ہیں جس پر سیکرٹری نے کہا کہ وزارت کا سیکرٹری سب سے سپریم ہوتا ہے اور تمام اداروں کے سربراہان اس کے ماتحت ہوتے ہیں، ایم ڈی پی ٹی وی کے خط و کتابت سے متعلق سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ہے اس لیے اس پر زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا، چیئرمین کمیٹی جاوید لطیف نے کہا کہ اگر کوئی چینل کوئی غلطی کرے تو اس کے سربراہ کو بلایا جاتا ہے، جرمانہ کیا جاتا ہے، سزا دی جاتی ہے، پی ٹی وی پاکستان کا اہم ترین ادارہ ہے، پی ٹی وی پر کشمیر کا نقشہ غلط دکھایا گیا اور بعد میں ریپیٹ ٹیلی کاسٹ میں دوبارہ غلط دکھایا گیا، کسی کو کوئی سزا نہ دی گئی، افسوس کہ اتنا وقت گزرنے کے باوجود کوئی ایکشن تک نہیں لیا گیا۔۔۔

