cyber security policy ka draft tayyar hogya

سائبر سیکورٹی پالیسی کا ڈرافٹ تیارہوگیا۔۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےانفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بعض ارکان اپنی اور اپنے خاندان کی تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہونےاور جعلی آئی ڈیز پر پھٹ پڑے۔ وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے کہا سائبر سیکورٹی کی پالیسی کا ڈرافٹ بن گیا، چیئرمین پی ٹی اے نے کہا رولز بننے سے مسائل حل ہوجائینگے۔ بعض ارکان نے ایف آئی اے سائبر کرائم کیخلاف شکایات کے انبار لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اگر متعلقہ اداروں سے رسپانس نہیں مل رہا ہے تو عام شہریوں کا کیا حال ہو گا، خواتین پارلیمنٹرینزکو سوشل میڈیا پر ہراساں کیا جا رہا ہے ۔کہا گیا تھا کہ فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پاکستان میں بھی اپنے دفاتر کھولیں گے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے، ارکان پارلیمنٹ کیخلاف سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈی بنانے کیخلاف اٹھائے گئےاقدامات پر بریفنگ کیلئے آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ حکام کو طلب کر لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی علی خان جدون کی زیرصدارت ہوا، ممبر کمیٹی علی گوہر خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کی بھرمار ہے، ایف آئی اے والے لوگوں کو مناسب نمبر دیں تاکہ لوگوں کی شنوائی ہو سکے ، ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ عبدالقادر نے بتایا کہ پیکا ایکٹ کے تحت صرف تین سیکشن کے تحت ہم کارروائی کر سکتے ہیں باقی میں عدالت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ہم نے ایکٹ میں ترامیم تجویز کی ہیں جو پارلیمنٹ کی کمیٹی کے پاس ہیں ، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ملک سے باہر ہیں، بعض چیزیں ہمارے ہاں جرم ہے مگر انکے ہاں جرم نہیں ، رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ میرے پورے خاندان کو جعلی آئی ڈی بنا کر بدنام کیا جا رہا ہے۔مجھے انصاف نہیں جواب چاہیے ، ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے کہا کہ ان کے کیس کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں