election mein hissa kyun lia

بھتہ خوری اور سیون نیوز کی جانب سے وضاحت۔۔

عمران جونیئر کے پیج پر 10 ستمبر کو سیون نیوز کے حوالے سے چھپنے والی خبر کے متعلق کچھ وضاحت یہ ہے کہ سیون نیوز کی ٹیم اپنے طور پر الائیڈ ہسپتال کے سائیکل اسٹینڈ پر نہیں گئی تھی 8 ستمبر کو یہ واقعہ پیش آیا اس دن صبح 11 بجے اسسٹنٹ کمشنر سٹی سید ایوب بخاری نے سائیکل اسٹینڈ پر اپنے اسٹاف کا بندہ بھیجا جس سے موٹرسائیکل کی پارکنگ کے دس روپے کی بجائے 30 روپے وصول کئے گئے جس پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے موقع سے دو بندوں کو حراست میں لیا اپنے دفتر لیکر گئے تقریباً 2.39 پر فیصل نامی لڑکے سے اشٹام پیپر پر دوبارہ اورچارجنگ نہ کرنے کی یقین دہانی پر اس کو رہا کردیا گیا جبکہ اس حوالے سے میڈیا کیلئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ میں پارکنگ والوں کو گرفتار کرنے اور اشٹام پیپر کو شئیر کیا گیا جس کے بعد سیون نیوز کی ٹیم ایک ایز لائیو ریکارڈ کرنے کیلئے الائیڈ ہسپتال پہنچی تو مین گیٹ سے ہی پارکنگ اسٹینڈ کے کارندوں نے سیون نیوز کی ٹیم کو اس شبہ پر پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر کو اورچارجنگ کے حوالے سے آگاہ کرکے چھاپے مرواتے ہیں اسی دوران دو گھنٹے رپورٹر اور کیمرہ مین کو یرغمال بناکر حراساں کرتے رہے جبکہ مسلسل موبائل فون پر ویڈیو بناتے رہے اس دو گھنٹے کے دوران ہسپتال کے کچھ ملازمین اور شہری اکھٹے ہوگئے جنہوں نے ان کو چھڑوانے کی کوشش کی تو پارکنگ مافیا نے الزامات لگائے کی ان سے بھتہ مانگنے آئیں ہیں دو گھنٹے کی ویڈیو میں سے ایک منٹ کی ویڈیو لگاکر سوشل میڈیا پر بھی شئیر کی گئی ہے جبکہ زندگی میں سیون نیوز کی ٹیم کے ممبران نے ان سے نہ تو کوئی ڈیمانڈ کی ہے اور نہ ہی کوئی مطالبہ کیا ہے دوسری جانب اگر سیون نیوز کے مالکان کی بات کی جائیں تو ان کے بارے میں پورا فیصل آباد اور فیصل آباد کی اعلٰی قیادت و انتظامیہ جانتی ہیں کہ وہ کس قدر فلاحی کاموں، خیراتی کاموں اور تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور جتنا بھی ہوسکتا ہے وہ فیصل آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں، نادر شہریوں، غریب یتیم بچیوں کی شادیوں کیلئے خاموشی سے کام کررہے ہیں۔۔

یہ تو تھی سیون نیوز کی جانب سے وضاحت جو ایک لفظ بھی کاٹے بغیر من و عن آپ لوگوں نے پڑھی۔۔ جب اس خبر کے حوالے سے دوبارہ پپو سے رابطہ کیاگیا تو پپو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہے، پپو نے سیون نیوزکا موقف سامنے آنے کے بعد چند سوالات بھی اٹھائے ہیں جس کے بعد فیصلہ عمران جونیئر ڈاٹ کام کے قارئین کو کرنا ہے۔۔پپو نے سوال اٹھایاہے کہ تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بطور مدد لیا جاتا ہے کیا ؟مالکان کا تعلیمی میدان میں اپنا بزنس نہیں ہے کیا ؟پپو نے سیون نیوزانتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ  فلاحی کاموں والے مالکان نے مرحوم کیمرہ مین ناصر محمود کے جنازہ پر تنخواہ جاری رہنے کا اعلان کر کے خبریں چلا کر پھر تنخواہ چند ماہ بعد بند کیوں کی کیا ایسے ہوتے ہیں فلاحی کام ۔۔؟؟ پپو نے سوال کیا ہے کہ سیون نیوز والے خبروں کو روکنے کے نام پر تعلق بناکر کام نہیں لیتے؟؟ ماضی میں ایک رپورٹر کے چھوٹے بھائی کو الائیڈ اسپتال میں ملازمت کیسے دلوائی گئی؟؟اس واقعہ کے بعد  سائیکل اسٹینڈ کے ٹھیکیدار سے کیا مذاکرات ہوئے اور کیا فائنل ہوا؟؟ پپو نے بہت جلد اسی حوالے سے فالواپ اسٹوری بمعہ ثبوت و شواہد دینے کا بھی کہا ہے،جسے عمران جونیئر ڈاٹ کام کے قارئین پڑھ کر آسانی سے فیصلہ کرسکیں گے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں