سماء کے رپورٹر کی المناک واقعے کی رپورٹنگ کے دوران حقا ئق سے لاعلمی۔۔ حیدرآباد میں بارش کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے بچے کے ایشو پر سما کا رپورٹر حقائق سے ناواقف نکلا، خبر کچھ یوں تھی کہ سات سے دس سال کی عمر کا بچہ گھر سے پیسے لیکر چیز لینے نکلا اور پا ؤں سلپ ہوجانے سے اپنے قد سے زیادہ گہرے پانی میں گرگیا جس کی ڈیڈباڈی علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نکال کر لطیف آباد کے مقامی اسپتال منتقل کی۔۔جب کہ سماء پر دوڑنے والی بریکنگ میں بتایا گیا کہ بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا جس کی لاش لال بتی ہسپتال منتقل کی گئی ، دوسری طرف بریکنگ میں بچے کی عمر بھی غلط بیان کی گئی۔۔ یہ حال ہے آج کل حیدرآباد کی صحافت کا جن کا پردہ پپو وقفے وقفے سے چاک کرتا ہی رہتا ہے۔۔پپو نے پہلے بھی بتایاتھا کہ کہیں کوئی واقعہ ہوجائے تو واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنیوالی معلومات پر خبر بناکر ادارے کو فیڈ کردی جاتی ہے مگر واٹس ایپ گروپ میں آنے والی خبر جوکہ زیادہ تر سنی سنائی ہوتی ہے، کوئی رپورٹر تصدیق کرنے کی زحمت تک گوارا نہین کرتا۔۔پھر اگر کسی غلط خبر پر نوٹس آجايئے توآزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے نعرے بلند ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔۔ پپو میڈیا اداروں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور کرتا رہیگا اب وہ دور نہیں کہ آپ غلط خبر یا ادھوری معلومات پر مبنی خبریں چلاکر غائب ہوجائیں بلکہ اب تو ہر خبر کی پکڑ ہوگی۔۔ اس لئے پپو کا تمام اسائنمنٹ والوں اور ” او ایس آر ” والوں کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے رپورٹرز اور نمائندوں کو پابند بنائیں کہ خبر ہمیشہ تصدیق کے بعد بھیجی جائے، واٹس ایپ گروپوں میں آنے والی خبریں شیئر نہ کی جائیں۔۔

