قوی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات نے صحافیوں پر حملوں، آزادی رائے پر قدغن سے متعلق واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی ہے۔ میاں جاوید لطیف کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کو3 ہفتوں میں مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا،مطیع اللہ جان نے اپنے مبینہ اغوا کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس معاملے پر بنائی گئی جےآئی ٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ جے آئی ٹی کے اجلاس میں ایک محکمے کے اہلکار کے علاوہ ان سے پولیس سمیت کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھا، مطیع اللہ جان نے اسلام آباد پولیس کی تفتیش پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ پر قریبی سکول کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل نہیں کی گئی ، تفتیشی افسر کہتے ہیں کہ وہاں کیمرے موجود نہیں تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے معلوم کیا کہ کیمرے کس نے اتارے؟ اغوا کار اس سڑک سے گزر کر آئے جو بند تھی اور جسے ان کی گاڑیوں کو راستہ دینے کے لیے کھولا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد نے بتایا کہ پولیس کو متعلقہ معلومات حاصل کرنے میں کافی دقت ہوئی اور وقت لگا، جس کے باعث تفتیش کی تکمیل تاخیر کا شکار ہوئی، اب تمام معلومات حاصل ہو چکی ہیں اور دو ہفتوں میں رپورٹ تیار ہو جائے گی، جاوید لطیف نے انہیں تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جس میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہو، مطیع اللہ جان نے کمیٹی چیئرمین کو کہا کہ تمام سرکاری محکمے پارلیمان کو جوابدہ ہیں، اس لیے آپ ان سے استدعا نہ کریں بلکہ حکم دیں۔

