وزیراعظم عمران خان نےعرب ٹی وی چینل ” الجزیرہ “ کو خصوصی انٹرویومیں بھارت کی اشتعال انگیزی اور کشمیر میں مظالم پر بھی روشنی ڈالی مگر اس دوران انہوں نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے گفتگو کے دوران انتہائی حیران کن بات کہہ دی ۔ وزیراعظم عمران خان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ”پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن نہیں ہے ، ہماری حکومت اظہار آزادی رائے پر یقین رکھتی ہے، بد قسمتی سے حکومت اور وزراءہیں جو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں نا کہ میڈیا،کچھ صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ایک صحافی کو کچھ گھنٹوں کیلئے اٹھایا گیا تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کی وجہ کیا ہے ۔عمران خان کا کہناتھا کہ میرے ملک کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنی تنقید کا خندہ پیشانی سے سامنا نہیں کیا جتنا میری حکومت نے کیا ، تنقید پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میری حکومت کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا، میں نے اپنی زندگی کے بیس سال انگلینڈ میں گزارے ہیں ، میں جانتاہوں کہ اظہار آزادی رائے کیا ہوتاہے ، کچھ چیزیں جو میرے اور حکومتی وزراءکے خلاف میڈیا میں آئیں اگر وہ انگلینڈ میں ہوا ہوتا تو ہم نے ملین ڈالرز کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہونا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل مطیع اللہ جان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سکس میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا تاہم اغوا کے 12 گھنٹے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے دوران سماعت ہی نوٹس بھی لیا تھا اور پولیس سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی تھی ۔ دریں اثنا عمران خان کے بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر وزیراعظم پاکستان پولیس تحقیقات کے 42 روز کے بعد بھی الجزیرہ کو یہ بتاتے ہیں کہ ” کچھ صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو اٹھایا گیا، خدا جانے کیا وجہ تھی “،تو انہیں انٹیلی جنس ایجنسیز ، پولیس حکام اور اپنے اوپر شرم آنی چاہیے ، ان کی تحقیقات بھی متعصبانہ ہیں ، آپ کو شرم آنی چاہیے ۔

